سانحہ گل پلازہ کیخلاف دائر آئینی درخواست پر فریقین کو نوٹسسز جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ کیخلاف دائر درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے نوٹسسز جاری کردیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سماجی رہنما بیرسٹر حسن خان کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔
عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 فروری کو جواب طلب کرلیا۔
درخواست گزار نے سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی، ایس بی سی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔
مزید پڑھیںاگر گیٹ بند تھے تو اتنے سارے لوگ کیسے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، صدر گل پلازہ
بیرسٹر حسن نے درخواست میں استدعا کی کہ گل پلازہ سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کی جائے، حادثے سے متعلق جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی تمام عمارتوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے جبکہ متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کی جائے اور کیس کے فیصلے تک متعلقہ محکموں کے افسران کو معطل کیا جائے۔
بیرسٹر حسن خان نے آئینی درخواست میں استدعا کی کہ تمام کمرشل بلڈنگ کا آڈٹ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔