سورج سے خارج ہوئی شدید لپٹوں سے امریکا و یورپ جگمگا اٹھے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اتوار کے روز سورج کی خارج کردہ شدید لپٹوں کے سبب 19 اور 20 جنوری کی درمیانی شب یورپ اور امریکا کے آسمان رنگین روشنیوں سے جگمگا اٹھے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق پیر کے روز شدید متاثر ہونے والی زمین کی مقناطیسی فیلڈ کے سبب شمالی روشنیوں کو امریکا کے مخصوص علاقوں کے بجائے الاباما اور شمالی کیلیفورنیا جیسی دیگر جنوبی ریاستوں میں بھی دیکھا جا سکے گا۔
نیشنل اوشیئنک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) نے خبردار کیا ہے کہ سال کے پہلے سولر فلیئر کے سبب ہونے والا شدید جیو میگنیٹک طوفان ممکنہ طور پر ٹیکنالوجی (بشمول والٹیج کنٹرول اور سیٹلائٹ آپریشنز) کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
این او اے اے حکام کا کہنا تھا کہ امریکا میں شمالی اور وسطی ریاستوں میں رہنے والے افراد رات کے وقت اورورا کو دیکھ سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق ارورا کو ملک کا شمالی حصہ دیکھ سکے اور ممکنہ طور پر جنوب میں یہ الاباما سے لے کر شمالی کیلیفورنیا تک دیکھا جا سکے گا۔
جیومیگنیٹک طوفان اتوار کے روز سورج کی خارج کردہ شمسی لپٹوں اور مقناطیسی فیلڈز کے سبب پیش آیا۔ سورج کی ان لپٹوں کی شدت کو ایکس 1.
سورج سے خارج ہونے والا چارجڈ ذرات کا یہ بادل 24 گھنٹے سے کم وقت میں زمین تک پہنچا اور 19 اور 20 جنوری کی درمیانی شب اس سبب بننے والے ارورا کا روس، یوکرین، بیلاروس، مغربی یورپ اور شمالی امریکا میں مشاہدہ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے سبب
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔