کراچی، ملتان، پشاور اور کوئٹہ — شعیب ملک کی 10 سالہ پی ایس ایل کہانی کا اختتام
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں شعیب ملک کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کے10سال کےکریئر میں آن اینڈ آف دی فیلڈ ہرلمحے سے بہت لطف اندوز ہوا ہوں، اب وقت آگیا ہے کہ اس سفر کو یہاں ختم کروں۔شعیب ملک کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی بہتری کے لیے مستقبل میں میری خدمات ہمیشہ حاضر رہیں گی۔خیال رہےکہ شعیب ملک نے 2015 میں ٹیسٹ کرکٹ اور 2019 میں ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا جب کہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے انہوں نے باقاعدہ تو ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا تاہم 44 سالہ آل راؤنڈر نے 2021 کے بعد سے قومی ٹیم کی نمائندگی نہیں کی تاہم وہ پی ایس ایل اور دیگر ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیلتے رہے ہیں۔شعیب ملک نے پی ایس ایل کے اب تک کے تمام 10 سیزن کھیلے ہیں۔ انہوں نے پی ایس ایل میں 4 ٹیموں کراچی کنگز، ملتان سلطانز، پشاور زلمی اورکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کی، 2025 میں اپنا آخری سیزن انہوں نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے کھیلا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ایس ایل شعیب ملک
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔