پی ایم ایل این سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا ہے کہ تمام پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر ڈال دیا گیا ہے اور معلومات کی اس چوری میں متعلقہ افسران کا ہاتھ ضرور رہا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں سروے اور ای ٹیگز: ہماری معلومات ڈارک ویب پر بک گئیں تو کون ذمہ دار ہوگا؟ سینیٹر پلوشہ خان

منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران سینیٹر نے کہا کہ تمام پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے اور یہ تازہ ترین ڈیٹا ہے اور یہ اتنا مفصل اور منظم ہے کہ شاید ہمارے پاس اس سے بہتر ڈیٹا موجود نہ ہو۔

افنان اللہ خان نے کہا کہ مثال کے طور پر نادرا، ایف بی آر اور بینکوں کے ڈیٹا کو ایک مجموعے میں یکجا کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈارک ویب سے کسی بھی شخص کا ڈیٹا صرف 500 روپے میں مل جاتا ہے تاہم اگر کوئی پورے ملک کا ڈیٹا حاصل کرنا چاہے تو وہ اس کو 70-80 ارب روپے میں ملے گا۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے اور کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جیسے دوسروں کے لیے (جعلی) پاسپورٹ یا شناختی کارڈ حاصل کرنا۔

افنان اللہ خان نے سوال کیا کہ پاکستانیوں کا ڈیٹا بار بار کیوں چوری ہوتا ہے؟

مزید پڑھیے: گوگل کا ڈارک ویب رپورٹ ٹول بند کرنے کا اعلان، صارفین کا ڈیٹا اب کیسے محفوظ رہے گا؟

انہوں نے امگریشن اور پاسپورٹس کے ڈائریکٹر جنرل مصطفیٰ جمال قاضی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں ایک بات واضح کر دوں کہ اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا کی چوری اہلکاروں کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں کیوں کہ 24 کروڑ افراد کا ڈیٹا محض ایسے ہی چوری نہیں کیا جا سکتا۔

اجلاس میں کمیٹی کے چیئرپرسن اور پی ٹی آئی سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے مصطفیٰ جمال قاضی سے پوچھا کہ اس سلسلے میں کوئی تحقیقات کی گئی ہیں یا نہیں۔

مصطفیٰ جمال قاضی نے جواب دیا کہ تفتیش کی گئی اور کچھ اہلکار بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈارک ویب پر معلومات لیک ہونے سے روکنے کیلئے وزارتوں کو ایڈوائزری جاری

سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈیٹا کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا ڈیٹا لیک ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا۔

تعاون نہ کرنے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کی تجویز

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور دہشتگردوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دہشتگرد بندوقیں استعمال کرتے تھے اور اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔

اس معاملے پر سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے حکومت سے مشورہ دیا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ معاہدہ کرے اور وہ پلیٹ فارم جو تعاون نہ کریں ان پر پابندی لگائی جائے۔

پی پی پی سینیٹر پلوشہ خان نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً پابندی لگانی چاہیے۔

سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز موجود ہیں اور کہا کہ  ضرورت نہیں کہ ان کمپنیوں کی خدمات لی جائیں جو تعاون نہیں کرتیں۔

مزید پڑھیں: ایک دوسرے پر گھونسوں کی بارش کرنے والے شیر افضل مروت اور افنان اللہ بغل گیر، تلخیاں دور

طلال چوہدری نے اس تجویز پر کہا کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے اور اگر ہم ایسا کریں تو اسے اظہار رائے پر حملہ کہا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر ڈائریکٹر امیگریشن اینڈ پاسپورٹس مصطفیٰ جمال قاضی ڈارک ویب سینیٹر افنان اللہ خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر ڈارک ویب سینیٹر افنان اللہ خان سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کا ڈیٹا ڈارک ویب پر پاکستانیوں کا ڈیٹا افنان اللہ خان ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا جمال قاضی ہے اور

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت