پوری قوم کا ڈیٹا ڈارک ویب پر دستیاب ہے، افسران کے بغیر چوری ممکن نہیں، افنان اللہ خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پی ایم ایل این سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا ہے کہ تمام پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر ڈال دیا گیا ہے اور معلومات کی اس چوری میں متعلقہ افسران کا ہاتھ ضرور رہا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں سروے اور ای ٹیگز: ہماری معلومات ڈارک ویب پر بک گئیں تو کون ذمہ دار ہوگا؟ سینیٹر پلوشہ خان
منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران سینیٹر نے کہا کہ تمام پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے اور یہ تازہ ترین ڈیٹا ہے اور یہ اتنا مفصل اور منظم ہے کہ شاید ہمارے پاس اس سے بہتر ڈیٹا موجود نہ ہو۔
افنان اللہ خان نے کہا کہ مثال کے طور پر نادرا، ایف بی آر اور بینکوں کے ڈیٹا کو ایک مجموعے میں یکجا کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈارک ویب سے کسی بھی شخص کا ڈیٹا صرف 500 روپے میں مل جاتا ہے تاہم اگر کوئی پورے ملک کا ڈیٹا حاصل کرنا چاہے تو وہ اس کو 70-80 ارب روپے میں ملے گا۔
سینیٹر کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے اور کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جیسے دوسروں کے لیے (جعلی) پاسپورٹ یا شناختی کارڈ حاصل کرنا۔
افنان اللہ خان نے سوال کیا کہ پاکستانیوں کا ڈیٹا بار بار کیوں چوری ہوتا ہے؟
مزید پڑھیے: گوگل کا ڈارک ویب رپورٹ ٹول بند کرنے کا اعلان، صارفین کا ڈیٹا اب کیسے محفوظ رہے گا؟
انہوں نے امگریشن اور پاسپورٹس کے ڈائریکٹر جنرل مصطفیٰ جمال قاضی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں ایک بات واضح کر دوں کہ اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا کی چوری اہلکاروں کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں کیوں کہ 24 کروڑ افراد کا ڈیٹا محض ایسے ہی چوری نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس میں کمیٹی کے چیئرپرسن اور پی ٹی آئی سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے مصطفیٰ جمال قاضی سے پوچھا کہ اس سلسلے میں کوئی تحقیقات کی گئی ہیں یا نہیں۔
مصطفیٰ جمال قاضی نے جواب دیا کہ تفتیش کی گئی اور کچھ اہلکار بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈارک ویب پر معلومات لیک ہونے سے روکنے کیلئے وزارتوں کو ایڈوائزری جاری
سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈیٹا کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا ڈیٹا لیک ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا۔
تعاون نہ کرنے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کی تجویزوزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور دہشتگردوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دہشتگرد بندوقیں استعمال کرتے تھے اور اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔
اس معاملے پر سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے حکومت سے مشورہ دیا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ معاہدہ کرے اور وہ پلیٹ فارم جو تعاون نہ کریں ان پر پابندی لگائی جائے۔
پی پی پی سینیٹر پلوشہ خان نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً پابندی لگانی چاہیے۔
سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز موجود ہیں اور کہا کہ ضرورت نہیں کہ ان کمپنیوں کی خدمات لی جائیں جو تعاون نہیں کرتیں۔
مزید پڑھیں: ایک دوسرے پر گھونسوں کی بارش کرنے والے شیر افضل مروت اور افنان اللہ بغل گیر، تلخیاں دور
طلال چوہدری نے اس تجویز پر کہا کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے اور اگر ہم ایسا کریں تو اسے اظہار رائے پر حملہ کہا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر ڈائریکٹر امیگریشن اینڈ پاسپورٹس مصطفیٰ جمال قاضی ڈارک ویب سینیٹر افنان اللہ خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری پاکستانیوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر ڈارک ویب سینیٹر افنان اللہ خان سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کا ڈیٹا ڈارک ویب پر پاکستانیوں کا ڈیٹا افنان اللہ خان ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا جمال قاضی ہے اور
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔