وزیراعظم نے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے امور اور استعداد کا جائزہ لینے کیلئے راناثنااللہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیراعظم نے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے امور اور استعداد کا جائزہ لینے کیلئے راناثنااللہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعظم نے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے امور اور استعداد کا جائزہ لینے کے لیے راناثنااللہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کمیٹی میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک بطور رکن شامل ہوں گے۔
کمیٹی پرائیویٹ حج آپریٹرز کی مالی اور انتظامی استعداد کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ کمیٹی دس روز کے اندر بین الاقوامی تھرڈ پارٹی کے ذریعے استعداد کار سے متعلق تجاویز مرتب کرے گی۔ذرائع کے مطابق پرائیویٹ حج آپریٹرز کی کمپنیوں کی اہلیت کا جائزہ 2027 سے 2030 کے عرصے کے لیے لیا جائے گا، جبکہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوچستان کابینہ کا تاریخ ساز فیصلہ، مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا، نئے رولز کی منظوری بلوچستان کابینہ کا تاریخ ساز فیصلہ، مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا، نئے رولز کی منظوری جماعت اسلامی کا وزیراعلی سندھ سے استعفے کا مطالبہ، ملین مارچ کا اعلان فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں اگر ہوا تو چھپائیں گے نہیں، بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر ہم کس پر اعتبارکریں، خواجہ آصف سیاسی بحران کا واحد حل عمران خان کی رہائی ہے، ناصر عباس کا اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد سینیٹ میں پہلا خطاب روانڈا کی ہائی کمشنرکی چوتھے آل پاکستان وومن چیمبرز پریزیڈنٹس انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پرائیویٹ حج آپریٹرز استعداد کا کا جائزہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔