سعودی کلچرل آرٹس کمیشن نے پیرس میں جاری بین الاقوامی نمائش SIRHA Bake & Snack 2026 میں ملک کی متنوع کھانے پینے کی ثقافت اور روایتی ذائقوں کو متعارف کرایا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کے شہر حائل نے آف روڈ گاڑیوں کے سب سے بڑے قافلے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرلیا

کمیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر میادہ بدر کے مطابق یہ نمائش عالمی سطح پر شیفوں اور کھانے کے ماہرین کا ایک اہم اجلاس ہے، جو سعودی عرب کے متنوع ذائقوں اور ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔

نمائش میں سعودی تاریخ کے مرکزی اجزا کھجور اور پنیر کی جوڑی کے تجربات پیش کیے گئے، جس میں فرانسیسی تکنیک اور سعودی ذائقوں کا منفرد امتزاج دکھایا گیا۔

سعودی شیفوں نے روایتی کھجور سے جدید ڈیزرٹس اور پیسٹریز براہ راست تیار کیں، جبکہ سعودی مہمان نوازی کو سعودی کافی کے ذریعے مکمل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ساحلی سیاحت کے فروغ کے لیے نئے قوانین نافذ

سعودی عرب میں سالانہ 1.

9 ملین ٹن سے زائد کھجور پیدا ہوتی ہیں، جن کی 300 سے زائد اقسام ہیں، اور ان کی برآمدات کا عالمی حجم 1.6 بلین ریال سے زائد ہے، جو 130 سے زائد ممالک تک پہنچتی ہیں۔

کمیشن کے مطابق اس قسم کے بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے ذریعے مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور سعودی کھانے کے ذائقوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ممکن ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

SIRHA Bake & Snack 2026 بین الاقوامی نمائش پیرس سعودی عرب سعودی کلچرل آرٹس کمیشن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی نمائش پیرس سعودی کلچرل آرٹس کمیشن بین الاقوامی

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں