سعودی عرب کی کھانے پینے کی متنوع ثقافت پیرس کی بین الاقوامی نمائش میں متعارف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سعودی کلچرل آرٹس کمیشن نے پیرس میں جاری بین الاقوامی نمائش SIRHA Bake & Snack 2026 میں ملک کی متنوع کھانے پینے کی ثقافت اور روایتی ذائقوں کو متعارف کرایا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کے شہر حائل نے آف روڈ گاڑیوں کے سب سے بڑے قافلے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرلیا
کمیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر میادہ بدر کے مطابق یہ نمائش عالمی سطح پر شیفوں اور کھانے کے ماہرین کا ایک اہم اجلاس ہے، جو سعودی عرب کے متنوع ذائقوں اور ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
نمائش میں سعودی تاریخ کے مرکزی اجزا کھجور اور پنیر کی جوڑی کے تجربات پیش کیے گئے، جس میں فرانسیسی تکنیک اور سعودی ذائقوں کا منفرد امتزاج دکھایا گیا۔
سعودی شیفوں نے روایتی کھجور سے جدید ڈیزرٹس اور پیسٹریز براہ راست تیار کیں، جبکہ سعودی مہمان نوازی کو سعودی کافی کے ذریعے مکمل کیا گیا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ساحلی سیاحت کے فروغ کے لیے نئے قوانین نافذ
سعودی عرب میں سالانہ 1.
کمیشن کے مطابق اس قسم کے بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے ذریعے مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور سعودی کھانے کے ذائقوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ممکن ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
SIRHA Bake & Snack 2026 بین الاقوامی نمائش پیرس سعودی عرب سعودی کلچرل آرٹس کمیشن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی نمائش پیرس سعودی کلچرل آرٹس کمیشن بین الاقوامی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔