شمالی کوریا کے نائب وزیراعظم صنعتی منصوبے میں ناکامی کے ذمہ دارقرار،عہدے سے برطرف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ایک اہم صنعتی منصوبے میں خرابی سامنے آنے پر نائب وزیراعظم کو عہدے سے برطرف کردیا ہے۔
جنوبی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے نائب وزیراعظم یانگ سنگ ہو کو ایک صنعتی منصوبے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے برطرف کر دیا ہے۔ یانگ سنگ ہو مشین سازی کی صنعت کے نگران تھے۔
میڈیا ذرئع کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا کی حکمران پارٹی کی اعلیٰ سطح میٹنگ قریب ہے، جو پانچ سال بعد منعقد ہو رہی ہے اور اسے شمالی کوریا کی سب سے بڑی سیاسی سرگرمی شمار کیا جاتا ہے۔ جس میں منصوبوں کے جائزے، نئی سیاسی و معاشی پالیسیوں کی تشکیل اور عہدوں میں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
کم جونگ اُن نے شمال مشرقی علاقے میں واقع ’ریونگ سنگ مشین کمپلیکس‘ کی اپگریڈیشن کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ دار اور نااہل لوگوں نے اس منصوبے کو سنگین نقصان پہنچایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا کوریا کے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔