گل پلازا کا ملبہ لے جانے والے 2 ڈمپرز پراسرار طور پر غائب
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ: منیر عقیل انصاری) گل پلازا میں لگنے والی خوفناک آگ کے بعد ایک نیا معاملہ سامنے آ گیا ہے۔گل پلازا کا ملبہ لیکر جانے والے 2 ڈمپرز پراسرار طور پر غائب ہوگئے ہیں۔
گل پلازا سے 8 ڈمپرز کے ذریعے ملبہ منتقل کیا جارہا تھا، 2 غائب ہوگئے، غائب ہونے والے ڈمپرز میں تاریں اور کاپر موجود تھا،دونوں ڈمپرز گل پلازہ سے نکلے مگر ڈمپنگ پوائنٹ پر نہیں پہنچے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر(ڈی سی) ساوتھ نے غائب ڈمپرزکی تفصیلات طلب کرلیں ہے،ان کا کہنا تھا کہ ڈمپرز کے غائب ہونے سے متعلق تحقیقات شروع کردی گئیں ہے۔
ذرائع کے مطابق غائب ہونے والے دونوں ڈمپرز کے نمبر 808 اور 670 ہیں، گل پلازا کا ملبہ لے جانے والے دو ڈمپر پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ڈمپرز میں سریے، بجلی کی تاریں اور دیگر قیمتی اسکریپ موجود تھا۔اطلاعات ہیں کہ یہ گاڑیاں جائے حادثہ سے روانہ تو ہوئیں لیکن مقررہ مقام تک نہیں پہنچیں۔
واقعے نے شفاف تحقیقات اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ڈمپرز میں ملبے کے بجائے کاپر لوڈ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب گل پلازہ کے تاجروں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف ہمارا کروڑوں کا سامان جل گیا، اور دوسری طرف جو بچا ہے اسے ڈمپروں میں بھر کر غائب کیا جا رہا ہے ۔
انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ملبہ کہاں گرایا جا رہا ہے اور اس میں موجود سامان کا ریکارڈ کیا ہے۔تاجروں کے نقصان کا پہلے ہی کوئی ازالہ نہیں ہو رہا ہے، اب ان کے بچے کھچے مال کی حفاظت پولیس اور انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازا
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی