فیصل رحمان کے نئے اسٹائل نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کراچی:
پاکستان کے سینئر اداکار فیصل رحمان کے بالوں کے نئے اسٹائل نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی۔
فیصل رحمان کے مطابق وہ کافی عرصے سے لمبے بالوں کو الوداع کہنا چاہتے تھے، تاہم انہیں بالوں کے زیادہ جھڑنے کا خدشہ تھا جس کی وجہ سے وہ فیصلہ مؤخر کرتے رہے۔
فیصل رحمان کا کہنا ہے کہ نئے ہیئر کٹ کے بعد مداحوں کی جانب سے ملنے والا زبردست اور مثبت ردِعمل ان کے اعتماد میں مزید اضافہ کا باعث بنا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اداکار کی اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مختلف دلچسپ تبصرے کیے۔ کئی مداحوں کے مطابق فیصل رحمان اپنے نئے انداز میں ایک بار پھر جوانی کے دور کی یاد دلا رہے ہیں جبکہ بعض نے انہیں ہالی ووڈ کے ہیرو سے تشبیہ دی۔
مداحوں کا ماننا ہے کہ فیصل رحمان کی یہ تبدیلی نہ صرف ان کے کیریئر میں تازگی لے کر آئی ہے بلکہ ان کی دلکش شخصیت کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ فیصل رحمان کا شمار پاکستان کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کم عمری میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور بعد ازاں ٹیلی وژن پر بھی اپنی منفرد اداکاری کے ذریعے خود کو منوایا۔
انہوں نے بابرہ شریف، شبنم سمیت کئی نامور اداکاراؤں کے ساتھ کامیاب فلمیں کیں، جبکہ ڈراموں میں ’کیسی عورت ہوں میں‘، ’بے شرم‘، ’وصل‘، ’آتش‘، ’رنجش ہی سہی‘، ’گمراہ‘، ’غلام گردش‘ اور ’زندگی بدلتی ہے‘ جیسے یادگار پراجیکٹس میں نمایاں کردار ادا کیے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل فیصل رحمان
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔