ویب ڈیسک : وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نےکہا ہےکہ ہم خود سوشل میڈیا متاثرین میں سے ہیں، دہشت گرد  پہلے پستول استعمال کرتے تھے اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان کا پیکا قانون میں ترمیم کا بل زیر غور آیا جسے بحث کے بعد اتفاق رائے سے منظورکرلیا گیا۔

انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ میرے بل کے حق میں این سی سی آئی اے بھی ہے، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اگرسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی درخواست پرقابل اعتراض مواد نہیں ہٹاتی تو کیا ہوگا؟ڈی جی این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکو تعاون کے لیے درخواست کر چکے ہیں۔

منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے

انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ میں ساری زندگی یہی سنتی آئی ہوں، ایک طریقہ کار ہونا چاہیےکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کیسے قابل اعتراض مواد ہٹائےگا، پہلے سروس پرووائڈرز کہتے تھے کہ جب تک قانونی طور پر جرم ثابت نا ہو مواد نہیں ہٹائیں گے۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نےکہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی آئی ٹی منسٹری کا کام ہے۔ اس پر انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ قانون تو آپ کے پاس ہے اس وقت۔

طلال چوہدری نےکہا کہ ہم خود سوشل میڈیا متاثرین میں سے ہیں، پوری دنیا ہمارے خلاف کھڑی ہوجاتی ہے کہ ہم آزادی اظہار رائے پرپابندی عائد کر رہے ہیں، دہشت گرد پہلے پستول استعمال کرتے تھے اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، ہم بھی یہی چاہتےہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سروس پرووائڈرز کو پابند کیا جائے۔

الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پلیٹ انوشہ رحمان کا کا کہنا تھا کہ طلال چوہدری استعمال کر کر رہے ہیں

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار