Express News:
2026-07-24@03:45:16 GMT

ٹرمپ نے چین کو بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت دیدی

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت تشکیل دیئے گئے ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں مختلف ممالک کو شامل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ 

تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ چین نے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی اس پیشکش پر کیا فیصلہ کیا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے بتایا کہ امریکا سے تعلقات میں گزشتہ سال کے دوران کچھ اتار چڑھاؤ رہا لیکن مجموعی طور پر فعال اور مستحکم ماحول برقرار رہا۔

چین کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے بارے میں فوری طور پر کوئی مؤقف نہ دینے سے تاثر ابھرا ہے کہ وہ صلاح مشورہ کے لیے وقت چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ اب تک متحدہ عرب امارات اور ہنگری نے باضابطہ طور پر شمولیت کا اعلان کردیا ہے جب کہ اٹلی اور کینیڈا نے بھی ہامی بھری ہے البتہ تاحال اعلان نہیں کیا۔

امریکی صدر نے عالمی رہنماؤں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل یہ بورڈ آف پیس غزہ میں امورِ مملکت چلانے کے غرض سے تشکیل دیا ہے۔

جس کا مقصد غزہ میں جنگ زدہ علاقوں کی تعمیرِ نو کی نگرانی کرنا ہے۔ جن میں انفرا اسٹریکچر، اسپتالوں اور اسکولوں کی بحالی، رہائشی عمارات کی تعمیر اور حکومتی اداروں کو منظم و مربوط کرنا شامل ہے۔

ٹرمپ نے اب تک روس اور چین کے صدور سمیت متعدد ممالک کے صدور کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے لیکن ان کے زیادہ تر اتحادی اب بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں شامل ہونے شامل ہونے کی کی دعوت

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل