وفاقی وزیر پیٹرولیم سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات،تیل و گیس کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
(اویس کیانی) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات،پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تیل و گیس اور معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق،برطانیہ کی جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 400 ملین ڈالر معاونت کی پیشکش۔
منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ملاقات کے موقع پر کہا کہ برٹش جیولوجیکل سروے اور جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے درمیان تعاون سے پاکستان کے منرل شعبے میں ترقی ہو گی،توانائی کے شعبے میں ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال
ملاقات میں اوگرا کی تنظیمِ نو کے لیے تشخیصی جائزے پر پاکستان اور برطانیہ کی جانب سے مشترکہ غور کیا گیا، آف شور تیل و گیس تلاش میں برطانوی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی،
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ برطانوی کمپنیاں پاکستانی سرکاری اداروں کے ساتھ شراکت کر سکتی ہیں، پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 8 تا 9 اپریل منعقد ہوگا۔ جین میریٹ نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم متاثر کن تھا۔
کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں،بیرسٹر گوہر خان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ ملاقات وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک ملاقات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ ملاقات علی پرویز ملک جین میریٹ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔