data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی :گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ دکانداروں کی فوری بحالی کے لیے صدر کے علاقے میں قائم خالی پارکنگ پلازہ کی عمارت عارضی طور پر فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے میئر کراچی کو خط لکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

گورنر ہاؤس کراچی میں تاجر برادری کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر سیاست یا پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ متاثرہ تاجروں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع مل سکے۔

کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ ایک بڑا المیہ ہے جس میں کئی خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا، وہ میئر کراچی کو باقاعدہ خط ارسال کریں گے تاکہ صدر میں واقع خالی پارکنگ پلازہ میں متاثرہ دکانداروں کو عارضی بنیادوں پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جا سکے۔

گورنر سندھ نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے بھی اپیل کی کہ وہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ساتھ مل کر شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر اور مستقل کارروائی کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے، گل پلازہ انتظامیہ کے صدر سے بھی بات ہونی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عمارت سے متعلق معاملات کس انداز میں چل رہے تھے۔

کامران خان ٹیسوری نے بتایا کہ وہ وزیراعظم پاکستان سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ کراچی کا دورہ کریں اور وفاقی سطح پر متاثرین کے لیے فنڈز کے حصول میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے کے معاوضے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے، تاہم مستقل حل کے لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔

گورنر سندھ نے ریسکیو آپریشن پر پاک نیوی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیوی کے اہلکار صرف 20 منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں بھرپور کردار ادا کیا، شہر ملک کے لیے 70 فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے، اس کے باوجود بار بار وسائل کے لیے ہاتھ پھیلانا لمحہ فکریہ ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گورنر سندھ کرتے ہوئے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟