علامہ شہنشاہ نقوی کا گل پلازہ کا دورہ، متاثرین سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے متعلقہ اداروں سے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ متاثرین کے نقصانات کی جلد از جلد تلافی کرے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ، متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات
علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ، متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات
علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ، متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات
علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ، متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات
علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ، متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات
علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ، متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات
علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ، متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات
علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سانحہ گل پلازہ کے مقام کا دورہ، متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات
اسلام ٹائمز۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے مرکزی صدر علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے انتہائی المناک سانحہ گل پلازہ میں جان سے ہاتھ دھونے والے تمام افراد کو "شہید" قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں اور کاروباری برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کابینہ اراکین کے ہمراہ سانحہ کے مقام کا دورہ کرکے متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات کی اور ان کے دکھ میں شرکت کی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، اور حکومت پر زور دیا کہ وہ متاثرین کے نقصانات کی جلد از جلد تلافی کرے۔ علامہ شہنشاہ حسین نقوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ .
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: متاثرین اور کاروباری افراد سے ملاقات مطالبہ کیا فوری اور
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔