پنجاب میں بلوچ طلبہ کےداخلوں پرکوئی پابندی نہیں،وزیرقانون
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پنجاب کی جامعات میں بلوچ طلبہ کے داخلوں پر کوئی پابندی نہیں اورکوٹہ سسٹم پر مکمل عملدرآمد ہورہا ہے۔
منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ گزشتہ روز پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر کی موجودگی میں وزیراعظم آفس سے متعلق بعض امور پر ایوان کی تشویش زیرِ غور آئی، جو الحمدللہ آج حل ہو گئی ہے۔
اس دوران سینیٹر کامران مصطفی کی جانب سے پنجاب میں بلوچ طلبہ کے داخلوں سے متعلق سوال اٹھایا گیا، جس پر سینیٹر پرویز رشید اور نوشہر رحمان سے ایوان کو بریف کرنے کی درخواست کی گئی۔
انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ سینیٹر پرویز رشید کی جانب سے موصول ہونے والی تفصیلی بریفنگ کے مطابق پنجاب کی جامعات میں بلوچ طلبہ کے داخلوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں اور ان کا کوٹہ مکمل طور پر بحال ہے۔
وزیرِ قانون نے کہا کہ اس وقت پنجاب کی مختلف سرکاری جامعات میں کل 3850 بلوچ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں نمایاں تعداد پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، بہائوالدین زکریا یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور دیگر جامعات میں شامل ہے۔ بعض جامعات میں اس وجہ سے داخلے نہیں ہو سکے کہ متعلقہ کوٹے کے تحت درخواستیں موصول نہیں ہوئیں۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں بلوچ طلبہ کے جامعات میں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔