وزیراعظم ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے، ٹرمپ سے ملاقات متوقع
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم کے 56 ویں اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس پہنچ گئے ہیں جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ڈیوس میں مصروف دن گزاریں گے جہاں ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائن پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوں گے اورڈیوس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بدھ کو ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران دو طرفہ امور اور خطے کے مسائل پر بات چیت کی جائے گی اور اس دوران وزیراعظم عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی ایم ڈی سے بھی اہم ملاقات کریں گے۔
قبل ازیں حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں اور زیورخ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جنیوا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے محمد بلال، سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے سفیر مرغوب سلیم اور سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
وزیراعظم ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں اجلاس کے مختلف سیشنز میں شرکت کریں گے، وزیراعظم پاکستان کی میزبانی اور ورلڈ اکنامک فورم کی شراکت داری میں ہونے والی بزنس راؤنڈ ٹیبل میں بھی شریک ہوں گے۔
وزیراعظم ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں پاکستان کے معاشی استحکام کے حوالےسے کی جا رہیں اصلاحات اور پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اعشاریوں پر روشنی ڈالیں گے۔
مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم پاکستان کے استحکام کے حوالے سے ٹرپل او پروگرام ( آرڈر، آپرچونیٹی، آپٹیمائزیشن) پر بھی بات کریں گے۔
ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ورلڈ اکنامک فورم کے پاکستان کے اجلاس میں سے ملاقات میں شرکت
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔