ورلڈ بینک کی رپورٹ میں فضائی آلودگی سے سالانہ دس لاکھ اموات کا انکشاف، کانگریس کی تشویش
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث ہر سال علاقائی معیشت کو مجموعی گھریلو پیداوار کے تقریباً دس فیصد کے برابر نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جو ترقی، روزگار اور سماجی بہبود پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر جے رام رمیش نے فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے بحران پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہند گنگی خطہ اور ہمالیائی دامن اس وقت ایک سنگین صحتی ایمرجنسی کی زد میں ہیں، جہاں فضائی آلودگی ہر سال تقریباً دس لاکھ افراد کی قبل از وقت موت کا سبب بن رہی ہے، مگر اس کے باوجود مودی حکومت اس بحران کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے مسلسل انکار کی پالیسی پر قائم ہے۔
جے رام رمیش کے مطابق ورلڈ بینک کی رپورٹ "اے بریتھ آف چینج" شواہد پر مبنی، جامع اور بالکل واضح ہے۔ رپورٹ میں اس بات کو نمایاں کیا گیا ہے کہ اس پورے خطے میں فضائی آلودگی نہ صرف انسانی صحت کے لئے شدید خطرہ بن چکی ہے بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی نہایت سنگین ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث ہر سال علاقائی معیشت کو مجموعی گھریلو پیداوار کے تقریباً دس فیصد کے برابر نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جو ترقی، روزگار اور سماجی بہبود پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ رپورٹ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ مسئلے کی نوعیت علاقائی ہے، جسے صرف شہروں یا انفرادی ریاستوں تک محدود منصوبہ بندی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے ریاستوں کی سرحدوں سے بالاتر، قانونی اختیارات کے حامل فضائی خطوں پر مبنی نظامِ حکمرانی ناگزیر ہے، تاکہ آلودگی کے بڑے ذرائع پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ کوئلہ سے چلنے والے پرانے بجلی گھروں، بڑھتی ہوئی گاڑیوں، ناقص ایندھن کے استعمال اور کمزور نفاذی نظام نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لئے پرانے بجلی گھروں کی مرحلہ وار بندش، اخراجی قوانین پر سختی سے عمل، عوامی نقل و حمل کے نظام کی توسیع اور اسے برقی نظام سے جوڑنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کے بحران کے پیش نظر کانگریس مسلسل اس بات پر زور دیتی آ رہی ہے کہ ہوا آلودگی کے کنٹرول اور روک تھام سے متعلق 1981ء کے قانون اور دو ہزار نو کے قومی ماحولیاتی معیار کا ازسر نو جائزہ لیا جائے، خاص طور پر باریک ذرات پی ایم دو اعشاریہ پانچ کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ ان کے مطابق نیشنل کلین ایئر پروگرام کو نہ صرف مالی اعتبار سے مضبوط بنایا جانا چاہیئے بلکہ اس کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جانا ضروری ہے، تاکہ حقیقی بہتری کو ناپا جا سکے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گھریلو ایندھن، صنعت، ٹرانسپورٹ، زرعی باقیات جلانا اور کچرے کے ناقص انتظام جیسے عوامل فضائی آلودگی کے بڑے اسباب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر حکومتیں شواہد پر مبنی پالیسی، مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے اور سخت نفاذ کو یقینی بنائیں تو فضائی معیار میں نمایاں بہتری ممکن ہے اور لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ جے رام رمیش نے آخر میں سوال اٹھایا کہ جب حقائق اتنے واضح اور خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے تو مودی حکومت کب تک اس سنگین صحتی بحران سے آنکھیں چرائے رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ورلڈ بینک کی رپورٹ فضائی آلودگی کے نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق
پڑھیں:
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
فائل فوٹو۔ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔
بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔
والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔