اپوزیشن مذاکرات سے متعلق وزیراعظم کی آفر کو قبول کرے: رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی جمود ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے اور وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مفاہمت کی پیشکش کو سنجیدگی سے قبول کرے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ جمہوری نظام ایوانِ قائد ایوان اور قائدِ حزب اختلاف دونوں کے بغیر مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا۔
انہوں نے اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان کسی قسم کا رابطہ موجود نہیں، جو جمہوری اقدار کے لیے تشویشناک امر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے متعدد بار اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دی جا چکی ہے، تاہم تاحال مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی، اگر کسی مرحلے پر مشاورت میں کوئی کمی یا کوتاہی ہوئی ہے تو حکومت اس پر نظرثانی کے لیے تیار ہے اور تمام اتحادیوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کراچی کے حالیہ گل پلازہ سانحے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ پورے ملک کے لیے باعثِ رنج ہے اور ہر پاکستانی اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے، حکومت ایسے واقعات کی وجوہات جاننے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے۔
ایم کیو ایم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ جن ملاقاتوں میں وہ خود شریک رہے، وہاں ایم کیو ایم نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔