جنید صفدر کی شادی میں مریم اورنگزیب کی ’ٹرانسفارمیشن‘، والدہ کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پنجاب کی سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی جانب سے سرجری کرائے جانے سے متعلق افواہوں پر ان کی والدہ طاہرہ اورنگزیب کا اہم بیان سامنے آگیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدرکی شادی کی تقریبات کے دوران سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب مرکزِ نگاہ بن گئیں جب کہ ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔
جنید صفدرکی شادی کی تقریبات میں مریم اورنگزیب کی اسٹائلش اورمختلف انداز میں شرکت نے دیکھنے والوں کو حیران کردیا،جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔
ان کی پرانی تصاویر شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کچھ شہریوں نے کہا کہ انہوں نے سرجری کرائی ہے جب کہ کچھ نے کہا کہ مریم اورنگزیب کی ٹرانسفارمیشن ہر عورت کا خواب ہوتی ہے لیکن ہر ایک میں اتنی مستقل مزاجی، ارادے کی پختگی اور اتنا نظم و ضبط نہیں ہوتا جو ایسے ویٹ لوز کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
مریم اورنگزیب ان خواتین کے لیے حوصلہ بھی ہیں جو اپنی شخصیت سازی کے سفر میں ہمت ہار جاتی ہیں۔
اب اس حوالے سے مریم ارونگزیب کی والدہ طاہرہ اورنگزیب نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی سرجری نہیں کرائی، وہ گزشتہ چند ماہ سے سخت ڈائٹ کر رہی ہیں، ان کا وزن کم ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ ایسی لگ رہی ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل مریم اورنگزیب کی
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔