ایران پر بڑھتا مغربی دباؤ اور خطے کا بدلتا منظرنامہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران ایک بار پھر تاریخ کے اْس نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اندرونی بے چینی، معاشی زوال اور بیرونی دباؤ کا تکون ایران کے اسلامی انقلاب کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تہران کی سڑکوں پر ہونے والے حالیہ مظاہروں نے بیرونِ ملک موجود ایرانی اپوزیشن اور مغربی دارالحکومتوں میں یہ امید جگا دی تھی کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والا نظام شاید اچانک اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے تاہم زمینی حقائق اس سوچ جسے اگر مغرب کی خواہش کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کے برعکس نظر آتے ہیں۔ دراصل ایرانی عوام ماضی میں بھی مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی جبر کے خلاف سڑکوں پر نکلتے رہے ہیں مگر حالیہ احتجاج ایک ایسے پس منظر میں سامنے آیا ہے جب ایران کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے براہ راست اور مغربی ممالک کی جانب سے بالواسطہ عسکری، سفارتی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان مظاہروں کی اصل ایندھن نظریاتی نہیں بلکہ معاشی ہے کیونکہ عام ایرانی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ جوہری پروگرام یا خارجہ پالیسی نہیں بلکہ روٹی، بجلی، گیس اور روزگار ہے۔
عالمی پابندیوں نے ایرانی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد وقتی طور پر ہٹائی گئی پابندیاں جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دوبارہ نافذ کیں تو اس کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑے۔ 2025 میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں 70 فی صد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ دسمبر میں ریال اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ایسے میں حکومت کے خلاف عوامی غم و غصہ فطری تھا۔ اس سب کے باوجود یہ تاثر درست نہیں کہ ایرانی حکومت فوراً ختم ہونے جا رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سیکورٹی اداروں کی مکمل وفاداری ہے۔ پاسدارانِ انقلاب جو صرف ایک فوجی تنظیم ہی نہیں ہے بلکہ ایک معاشی اور نظریاتی قوت بھی ہے، ایران کے انقلابی نظام کا مضبوط ستون ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسلح اہلکاروں پر مشتمل یہ ادارہ براہِ راست سپریم لیڈر کو جواب دہ ہے اور اس کے پاس نظام کے دفاع کے لیے طاقت، دولت اور نظریے کے تینوں اسباب موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مسلسل دھمکیاں، فوجی آپشن پر غور اور ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف لگانے کا اعلان دباؤ کو نئی سطح پر لے گیا ہے۔ ٹرمپ کی بیان بازی کبھی مظاہرین کو امید دلاتی ہے تو کبھی تباہ کن نتائج کی دھمکی دیتی ہے جس سے خطے میں بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار چین ہے اور چین کے ساتھ امریکا کے تعلقات خود نازک توازن پر قائم ہیں۔ ایسے میں ایران کے معاملے پر چین کو دیوار سے لگانا واشنگٹن کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اسی طرح عراق، ترکی اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بھی ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں مثلاً انڈیا کے لیے ایران محض ایک تجارتی شراکت دار نہیں ہے بلکہ وسطی ایشیا اور روس تک رسائی کا اسٹرٹیجک راستہ بھی ہے۔ اگر امریکی دباؤ کے باعث انڈیا پیچھے ہٹتا ہے تو اس کا فائدہ براہِ راست چین کو ہوگا جو پہلے ہی ایران کے ساتھ اپنی شراکت مضبوط کر رہا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں ایران کے ساتھ تجارت بڑی حد تک غیر رسمی ہے، اس لیے فوری اثرات محدود ہو سکتے ہیں مگر طویل المدت علاقائی عدم استحکام پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ غیر رسمی ایندھن کی ترسیل، سرحدی تجارت اور علاقائی سلامتی سب اس بحران سے جڑی ہوئی ہیں۔
ایران کے لیے سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس نازک گھڑی میں اسے مسلم دنیا کی واضح حمایت حاصل نہیں ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں ایران کی مسلکی بنیادوں پر توسیع پسندانہ پالیسیوں، پراکسی جنگوں اور عرب دنیا میں مداخلت نے اسے تنہا کر دیا ہے۔ عراق، شام، لبنان، یمن اور بحرین میں ایرانی کردار نے بہت سے مسلم ممالک کو بدظن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب امریکا اور اسرائیل کھلے عام رجیم چینج کی بات کر رہے ہیں تو مسلم دنیا خاموش ہے۔ امام خمینی کے سیاسی وروحانی جانشین علی خامنہ ای کی قیادت میں قائم اسلامی حکومت کے مخالفین کی سب سے بڑی کمزوری قابل ِ اعتماد قیادت کا فقدان ہے۔ شاہِ ایران کے بیٹے کی محدود مقبولیت اس خلا کو پْر نہیں کر سکتی البتہ اگر اندرونی دباؤ، معاشی بحران اور بیرونی مداخلت ایک نکتے پر جمع ہو گئے تو ایرانی حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
ایران میں 46 سال سے قائم انقلابی حکومت کا خاتمہ جسے امریکا اور اس کے اتحادی رجیم چینج کا نام دے رہے ہیں امریکا کی اوّل روز سے خواہش رہی ہے۔ گزشتہ چار عشرے اس بات پر شاہد ہیں کہ امریکا نے ایران کی انقلابی حکومت کو سرنگوں کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ عراق ایران جنگ سے لیکر عرب ممالک کے ساتھ اس کی مخاصمت بڑھانے سمیت امریکا نے ہر موقع پر ایران کو زچ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح اقتصادی پابندیوں کی آڑ میں بھی اس کی معیشت کا بٹا بٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیا، اس عمل میں امریکا کو تمام مغربی ممالک کی واضح اور علی الاعلان حمایت حاصل رہی ہے۔ اس صورتحال میں امت مسلمہ نے بھی کبھی آگے بڑھ کر ایران کے سر پر ہاتھ رکھنا گوارا نہیں کیا جس کی ایک بڑی وجہ ایران کے مسلکی بنیادوں پر توسیع پسندانہ عزائم رہے ہیں۔ عراق اور افغانستان پر امریکی حملے اور جنگ کے وقت جب امریکا کے ساتھ حساب برابر کرنے کے اچھے مواقع تھے ان مواقع پر بھی ایران نے وہ حکمت عملی نہیں اپنائی جس سے وہ اسلامی دنیا کے دل جیت سکتا تھا۔ اسی طرح شام، لبنان، بحرین اور یمن میں اپنی پراکسی کے ذریعے اس نے جو کارروائیاں جاری رکھیں ان سے بھی خطے کے اسلامی ممالک شاکی رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب جب ایران پر امریکی قیادت میں مغربی دبائو اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ یہاں طاقت کے ذریعے رجیم چینج کی اعلانیہ دھمکیاں دی جارہی ہیں تو کسی بھی اسلامی ملک کی جانب سے ایران کی حمایت میں کوئی واضح اور تونا آواز اٹھتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے حالانکہ چین کی قیادت میں سعودی اور ایرانی تعلقات کی بحالی کے بعد توقع تھی کہ ایران ماضی کی اپنی ان پالیسیوں پر نظر ثانی کرے گا لیکن اس کی جانب سے اس حوالے سے کچھ زیادہ گرمجوشی نظر نہیں آئی۔ اسی طرح سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان خطے میں اسرائیل کی ممکنہ جارحیت کے تناظر میں جب گزشتہ سال دفاعی معاہدہ طے پایا جس میں اب ترکیے کی شمولیت کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں تویہ ایک سنہری موقع ہے۔
جب ایران کو بعض مسلمان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات درست کرتے ہوئے اگر ماضی کی غلطیوں پر معافی بھی مانگنی پڑے تو یہ اس کی بقاء کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں کوئی برا سودا نہیں ہوگا بلکہ اس کا یہ طرز عمل سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے ممکنہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کی بنیاد بھی بن سکتا ہے لہٰذا اب بھی اگر ایران ان تینوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنے کے لیے بعض عملی اقدامات اٹھائے تو شاید وہ نہ صرف اسرائیل اور امریکا کی ممکنہ جارحیت اور مغربی ممالک کے دبائو کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکے گا بلکہ اس سے تباہی اور ٹوٹ پھوٹ کے کنارے کھڑا یہ سارا خطہ محفوظ ہونے کی توقع بھی کی جا سکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی جانب سے میں ایران ایران کے ممالک کے ایران کو رہے ہیں کے ساتھ کے لیے رہی ہے اور اس
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین