Jasarat News:
2026-06-02@22:30:19 GMT

عالمی طاقتیں اور خطرے میں پڑتی دنیا

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا اس وقت ایک نازک اور فیصلہ کن دور سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف جدید سائنس، ٹیکنالوجی، طب اور مواصلات میں حیران کن ترقی ہو رہی ہے، تو دوسری طرف انسانیت جنگ، غربت، ماحولیاتی تباہی، معاشی عدم استحکام اور اخلاقی زوال جیسے خطرات میں گھرتی جا رہی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ طاقتیں جو دنیا کو محفوظ، مستحکم اور پرامن بنانے کی ذمے دار سمجھی جاتی ہیں، آج خود عالمی بدامنی اور انتشار کی بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ عالمی سطح پر غربت میں اضافہ، ماحولیاتی تبدیلی، عالمی حدت، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل پہلے ہی انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق کروڑوں انسان خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زرعی پیداوار، آبی ذخائر اور انسانی صحت پر تباہ کن اثرات ڈال رہے ہیں۔ ایسے حالات میں دنیا کو تعاون، ہمدردی اور اجتماعی حکمت ِ عملی کی ضرورت تھی، مگر بدقسمتی سے عالمی طاقتیں باہمی تصادم اور عسکری برتری کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ اکیسویں صدی کی جنگوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات پورے خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ افغانستان، عراق، شام، لیبیا اور یوکرین جیسے تنازعات نے لاکھوں انسانی جانیں نگل لیں، ریاستی ڈھانچے تباہ کر دیے اور پناہ گزینوں کے ایسے بحران کو جنم دیا جس سے عالمی نظام آج تک نبرد آزما ہے۔ اس کے باوجود عالمی طاقتیں تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے ایک بار پھر دنیا کو اسی راہ پر دھکیل رہی ہیں۔

امریکا، روس اور چین دنیا کی بڑی طاقتیں سمجھی جاتی ہیں۔ ان ممالک کے پاس بے پناہ عسکری وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی اثر و رسوخ موجود ہے۔ ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے ممالک کی معاشی، تعلیمی اور تکنیکی ترقی میں کردار ادا کریں گے، مگر عملی طور پر یہ طاقتیں اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کمزور ممالک کو میدانِ جنگ بنا دیتی ہیں۔ وسائل سے مالا مال لیکن کمزور ریاستیں عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کی نذر ہو جاتی ہیں، جس کا خمیازہ عام شہری بھگتتے ہیں۔ امریکا کو عالمی قیادت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس کی معیشت، عسکری قوت، سفارتی نیٹ ورک اور سیاسی حکمت ِ عملی دنیا بھر میں اثر رکھتی ہے۔ بیش تر ممالک امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کو اپنے قومی مفاد سے جوڑتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ایک طرف ’’نو وار پالیسی‘‘ کا نعرہ بلند کیا گیا اور مختلف تنازعات میں ثالثی کا کریڈٹ بھی لیا گیا، تاہم دوسری جانب اسی دور میں کئی ممالک پر براہِ راست یا بالواسطہ عسکری کارروائیاں کی گئیں۔ میزائل حملے، اقتصادی پابندیاں اور حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار کرنا اسی پالیسی کا حصہ رہے۔

ایران، لبنان، شام، نائجیریا، وینزویلا اور دیگر ممالک میں امریکی عسکری یا سیاسی مداخلت نے ان خطوں میں عدم استحکام کو مزید بڑھایا۔ خاص طور پر ایران کے خلاف سخت پابندیاں، دھمکیاں اور عسکری دباؤ خطے کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لے آئے ہیں۔ ایران میں مہنگائی اور معاشی مسائل کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو جواز بنا کر عسکری کارروائی کی دھمکیاں دینا بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، اور خطے میں موجود امریکی اڈے اور مفادات جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ روس، جو خود ایک بڑی عالمی طاقت ہے، امریکا کی کسی بھی یکطرفہ کارروائی کو ناقابل ِ قبول قرار دے چکا ہے۔ روسی وزیرِ خارجہ کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر یہ تنازع بڑھا تو یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک بڑے عالمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ایسے کشیدہ حالات میں عالمی اداروں اور علاقائی طاقتوں کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، قطر، سعودی عرب، روس اور دیگر خلیجی ممالک نے معاملہ فہمی اور بات چیت کے ذریعے اس بحران کو حل کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ ان سفارتی اقدامات کے نتیجے میں وقتی طور پر کشیدگی میں کمی ضرور آئی ہے، مگر خطرہ اب بھی پوری طرح ٹلا نہیں۔ دونوں فریقین کی جانب سے سخت بیانات صورتحال کو مزید نازک بنا رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری اس تنازع کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اجلاس میں امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے۔ امریکا نے ایران پر دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا، جبکہ ایران نے امریکی جارحیت اور دوہرے معیار کو عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ اس موقع پر پاکستان سمیت کئی ممالک نے تحمل، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دیا، جو ایک مثبت اور ذمے دارانہ مؤقف ہے۔ اگر عالمی طاقتوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو دنیا ایک بار پھر بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ ایسی جنگ کے اثرات صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیاں، خوراک کی فراہمی اور عام انسان کی زندگی بری طرح متاثر ہوگی۔ مہنگائی میں اضافہ، بے روزگاری، بھوک اور عدم تحفظ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے نہیں بلکہ حکمت، تحمل اور اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری ہی عالمی امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔ طاقتور ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید مسائل کو جنم دیتی ہے۔ حقیقی قیادت وہی ہے جو کمزوروں کا تحفظ کرے، تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے اور دنیا کو ایک محفوظ مستقبل کی طرف لے جائے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر عالمی طاقتیں اپنی روش تبدیل نہ کر سکیں تو خطرے میں صرف چند ممالک نہیں بلکہ پوری انسانیت ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا جنگ اور تصادم کے بجائے امن، بھائی چارے، مساوات اور مشترکہ ترقی کی راہ اختیار کرے، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور مستحکم دنیا دی جا سکے۔

حزب اللہ گولاٹو بلوچ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عالمی طاقتیں دنیا کو رہی ہے

پڑھیں:

اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔

Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with Kuwait’s Foreign Minister Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah to discuss evolving regional and international developments.

FM Sheikh Jarrah appreciated Pakistan’s continued… pic.twitter.com/CBnvw1REKc

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیاکہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور مستقبل قریب میں خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسحاق ڈار ٹیلیفونک رابطہ عالمی صورتحال کویتی وزیر خارجہ نائب وزیراعظم وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار