ایران: عالمی صیہونیت کے نشانے پر کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: امریکہ اور صیہونی طاقتوں نے ایران کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے اندرونی ایجنٹوں، ڈس انفارمیشن مہمات اور پرامن احتجاج کو فساد میں بدلنے کی کوششیں کیں، مگر ایرانی عوام کے شعور اور جذبۂ ایمانی نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ ایرانی قوم کے لیے عقیدۂ توحید اور مکتبِ اہل بیتؑ سے وابستگی محض مذہبی نعرہ نہیں بلکہ قومی شناخت اور فخر ہے۔ تحریر: سید انجم رضا
جمہوری اسلامی ایران آج عالمی صیہونیت اور اس کے سامراجی سرپرستوں کے نشانے پر ہے تو اس کی وجہ کوئی خفیہ ایٹمی پروگرام یا میزائل ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اس کا وہ انقلابی نظریہ ہے جو طاقت کے آگے جھکنے سے انکار اور مزاحمت کو حق قرار دیتا ہے۔ ایران کا اصل جرم یہ ہے کہ اس نے اسرائیلی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور مظلوم اقوام کو یہ پیغام دیا کہ غلامی مقدر نہیں، مزاحمت ممکن ہے۔ ایران وہ واحد ریاست ہے جس نے فلسطین کو سفارتی سودے بازی کا موضوع نہیں بنایا بلکہ اسے امتِ مسلمہ کا زندہ اور مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ امام خمینیؒ کا جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دینا محض ایک علامتی اعلان نہیں تھا بلکہ صیہونی منصوبے کے خلاف ایک نظریاتی محاذ کا قیام تھا۔ اسی اقدام نے عالمِ اسلام میں اسرائیل کے خلاف شعوری بیداری کو جنم دیا اور یہی لمحہ عالمی صیہونیت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا۔
عالمی صیہونیت کو ایران سے خطرہ اس کے میزائلوں سے زیادہ اس کے نظریے سے ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو اسلامی اصولوں، توحید اور مکتبِ اہل بیتؑ سے جڑا ہوا ہے اور جو سامراجی جبر کے مقابلے میں مزاحمت کو نہ صرف جائز بلکہ ضروری قرار دیتا ہے۔ ایران نے ثابت کیا کہ صیہونی حکومت کے ناقابلِ شکست ہونے کا دعویٰ ایک فریب تھا، جسے محورِ مزاحمت نے بارہا بے نقاب کیا۔ ایران پر عائد کی جانے والی معاشی پابندیاں دراصل عالمی صیہونیت کی سیاسی بوکھلاہٹ کی علامت ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی عوام کو معاشی دباؤ کے ذریعے انقلابی راستے سے ہٹانا تھا، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ جون 2025ء کی بارہ روزہ جنگ نے یہ واضح کر دیا کہ ایرانی قوم نہ صرف عسکری محاذ پر بلکہ نظریاتی اور عوامی سطح پر بھی متحد اور مضبوط ہے۔
امریکہ اور صیہونی طاقتوں نے ایران کے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے اندرونی ایجنٹوں، ڈس انفارمیشن مہمات اور پرامن احتجاج کو فساد میں بدلنے کی کوششیں کیں، مگر ایرانی عوام کے شعور اور جذبۂ ایمانی نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ ایرانی قوم کے لیے عقیدۂ توحید اور مکتبِ اہل بیتؑ سے وابستگی محض مذہبی نعرہ نہیں بلکہ قومی شناخت اور فخر ہے۔ شہید سیدِ مقاومت جیسی عظیم شخصیات نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس اسلامی مؤقف کی حقانیت کو تاریخ میں ثبت کر دیا۔ آج صیہونی حکومت اور عالمی صیہونیت بخوبی جانتی ہے کہ ان کا اصل اور فیصلہ کن دشمن کوئی وقتی اتحاد نہیں بلکہ جمہوری اسلامی ایران اور اس کا انقلاب ہے۔
پاکستان کا مؤقف اس تمام صورتحال میں نہایت اہم رہا ہے۔ اسلامی بھائی چارے، ہمسائیگی اور قومی مفاد کے تحت پاکستان نے جمہوری اسلامی ایران کی حمایت کا واضح پیغام دیا۔ سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب کا دوٹوک مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں بیرونی ایجنڈوں کا حصہ بننے کے بجائے استحکام اور خودمختاری کے اصولوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ مستقبل میں پاک ایران تعلقات کا مضبوط ہونا نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے امید کی کرن ہے۔ یقیناً جمہوری اسلامی ایران اپنی آئندہ حکمتِ عملی میں اندرونی سطح پر معاشی ریلیف اور بیرونی سطح پر جدید سفارتکاری کو فروغ دے گا، مگر ایک بات طے ہے کہ ایران صیہونیت دشمنی، مزاحمت اور امتِ واحدہ کے مؤقف سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ آج کے عالمی منظرنامے میں یہ حقیقت مزید واضح ہو چکی ہے کہ طاقت کا اصل سرچشمہ میزائل نہیں بلکہ نظریہ، شعور اور عوامی استقامت ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس سے عالمی صیہونیت سب سے زیادہ خوفزدہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جمہوری اسلامی ایران عالمی صیہونیت نہیں بلکہ کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔