وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جھوٹ اور پراپیگنڈے کی بنیاد پر نوجوانوں کے ذہنو ں میں زہر گھولنے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ صوبوں نے این ایف سی میں ملنے والے وسائل سے فائدہ اٹھا کر بھرپور ترقی کی لیکن خیبرپختونخوا میں یہ نظر نہیں آتی، چاروں صوبوں کی ترقی سے پاکستان آگے بڑھے گا،سوشل میڈیا پر شہداء کی قربانیوں کی توہین کرکے سرحد پاردشمن کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے،خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے 800ارب روپے دیئے، دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی،افغانستان کی عبوری حکومت نے ہماری ایک نہیں سنی،پھر انہیں سبق سکھایا، اب انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا ہے یا نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، عطاء اللہ تارڑ اوردیگربھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور سٹرٹیجک صوبہ قراردیتے ہوئے خیبرپختونخوا کے عوام کی غیرت ، جرأت و بہادری کو سراہا اور کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں ۔ انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کے نتیجے میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ اور سب کے سامنے ہے ،40 لاکھ افغان پنا ہ گزین ہجرت کرکے آئے تو خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام نے ان کی مہمان نوازی ، میزبانی اور خاطر داری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ،یہ بطور مسلمان اور ہمسایہ ہمار ا فرض تھا لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر آیا اور ملک بھرمیں دہشت گردی نے سر اٹھایا جس میں ہزاروں بے گناہ شہید ہوئے ، خیبرپختونخوا اس جنگ میں فرنٹ لائن رہا ہے جہاں سیاستدانوں ،ڈاکٹرز، انجینئرز، پاک فوج ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور عام شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں جن کے نتیجے میں 2018ء میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا ، سانحہ اے پی ایس کے بعد سیاسی حکومت نے فیصلہ کیا کہ اب گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ، ایک لاکھ جوانو ں ، افسروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کا خاتمہ ہوا لیکن اس ناسور نے 2018ء کے بعد پھر سر کیوں اٹھایا؟،یہ چبھتا ہوا سوال ہے جس کا جواب سب کو معلوم ہے،یہ فاش غلطی تھی، سوات سے سینکڑوں دہشت گردوں کو رہا اور افغانستان سے ہزاروں کو واپس لا کر بسایا گیا، اس وجہ سے دہشت گردی دوبارہ شروع ہوئی جس نے ملک کی ترقی اور خوشحالی پر وار کیا، ہر روز کہیں نہ کہیں کوئی واقعہ ہوتا ہے جس میں ہمارا کوئی بہادر بیٹا جو اپنے بچوں کو خدا حافظ کہہ کر محاذ پر جاتا ہے وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوتا ہے اور اپنے بچوں کو یتیم کرکے قوم کے بچوں کویتیم ہونے سے بچاتا ہے، اس سے بڑھ کر کوئی قربانی کیا ہوسکتی ہے؟ ، اس قربانی کا جتنااحترام کیا جائے کم ہے لیکن سوشل میڈیا پر زہر اگلا جاتا ہے اور شہداء کی توہین کی ناپاک کوشش کرکے سرحد پار دشمنوں کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت ہے کہ ہم اس صورتحال اور طرزعمل کا جائزہ لیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام خارجی جو پاکستان کے اندر اور باہر سے حملہ آور ہیں ان کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2010; میں این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے پہل کی اور تمام صوبوں نے مل کر اپنے حصے سے ایک فیصد خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے مقابلے کےلئے دینے کا فیصلہ کیا، 15 برسوں میں 800 ارب روپے دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے خیبرپختونخوا کو دیئے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، بلوچستان کےلئے بھی پنجاب نے اپنے حصے سے ا ضافی وسائل فراہم کئے اور بلوچستان کے لئے 100فیصد اضافہ کیا گیا، یہ کوئی احسان نہیں ہے اگر پنجاب ترقی کرتا ہے اور باقی نہیں تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں ، حکومت کا ایمان ہے کہ چاروں صوبے ترقی کریں گے تو پاکستان ترقی کرے گا،بلوچستان کی 850کلومیٹر خونی سڑک کےلئے 400 ارب روپے مختص کئے ، بلوچستان سے ایک پائی نہیں مانگی ،صوبے کے کسانوں کےلئے سولر پینلز کی فراہمی کےلئے 75 ارب روپے کے منصوبے میں سے 50 ارب روپے وفاق نے دیئے جن سے آج ٹیوب ویلز چل رہے ہیں، آزاد کشمیر، گلگت بلستستان میں دانش سکولوں کا جال بچھایا جا رہا ہے،طلباء کو میرٹ پر لیپ ٹاپس اور وظائف دیئے جا رہے ہیں جس کےلئے فنڈ قائم کیا گیا ہے ، لاکھوں طلبہ و طالبات ان سے استفادہ کرکے تعلیمی میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں ، ایک ہزار زرعی گریجوایٹس کو زراعت کی اعلیٰ تعلیم اور تربیت کےلئے چین کی اعلیٰ یونیورسٹیوں اوراداروں میں بھجوایا جن میں آزاد کشمیرا ور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے گریجوایٹس شامل ہیں، یہ تربیت یافتہ افراد زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے اور زرعی انقلاب برپا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے 1947ء میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے،1971ء کی جنگ میں رضا کارانہ طور پر افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ بند کردی ، اللہ تعالیٰ نے خیبرپختونخوا کو معدنیا ت کی دولت سے نواز ا ہے ، یہ وسائل خیبرپختونخوا اورپاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کےلئے خرچ ہونے چاہئیں تھے لیکن باقی صوبوں سے خیبرپختونخوا کی د س سالہ کارکردگی کا موازنہ کریں تو دددھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، این ایف سی ایوارڈ میں چاروں صوبوں کووسائل ملتے ہیں ، کسی نے فائدہ اٹھا کر ان سے بھرپور ترقی کی لیکن خیبرپختونخوا میں جو ترقی ہونی چاہئے تھی وہ نظر نہیں آتی، اپنے گریبان میں جھانک کر اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 6 مئی کو بھارت نے پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے 53 بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا تو پاکستان نے سخت جوابی کارروائی کی اور دشمن کے 7 لڑاکا طیارے مار گرائے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو وہ سبق سکھایا جس کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور دشمن کو ہمیشہ یہ سبق یاد رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد گرین پاسپورٹ کو اب دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے اب پائیدار ترقی کےلئے اقدامات کررہے ہیں ، وہ وقت دور نہیں جب محنت، امانت ، دیانت اور ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان کو اقوام عالم میں اس کا کھویا ہوا مقام دلائیں گے۔ا فغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمسایہ ملک ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ، افغانستان کی ماضی اورحال کی حکومتوں نے ہماری میزبانی کی قدر نہیں کی ، بھائی چارے کے جواب میں بھائی چارے کا مظاہرہ نہیں ہوا اورجس طرح افغانستان نے جواب دیا وہ قابل افسوس ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہورہی ہے ، دوحہ اور چین میں افغان عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت ہوئی، ان پر ٹی ٹی پی ، بی ایل اے سمیت بھارت کی آشیر باد سے کام کرنے والی پراکسیز کی کارروائیاں روکنے پر زور دیا لیکن انہوں نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا اور ہماری ایک نہیں مانی ، پھر ان کو سبق سکھایا، انہوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ بند کریں ، ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ادویات اور ضروری سامان نہیں روکا، اب افغان عبوری حکومت پر ہے کہ وہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا میں سرد جنگ کا تاثر درست نہیں ، میں نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بننے کے فوری بعد فون کرکے مبارکباد دی اور ان کےلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن انہوں نے مثبت جواب نہیں دیا ، چترال میں دانش سکول کا سنگ بنیادرکھنے کے موقع پر میں نے انہیں پھر مل بیٹھ کر بات کرنے کی دعوت دی لیکن بدقسمتی سے جھوٹ اورپراپیگنڈے کی بنیاد پر نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت چاروں صوبوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کررہے ہیں ، اس کےلئے مختلف پروگرام شروع کئے گئے ہیں ۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے بتایا کہ چند روز قبل وزیراعظم صحت پروگرام کا دوبارہ اجراء کیا گیا ہے، یہ پروگرام 2016ء میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے شروع کیا تھا، اس پروگرام کے تحت وفاقی دارالحکومت ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے عوام کے مفت علاج کے لئے 40 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو چاروں صوبوں کے جواب میں پاکستان کے انہوں نے ارب روپے کے ساتھ کے عوام رہے ہیں ہے اور

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار