وزیراعظم شہباز شریف ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف 20 سے 22 جنوری تک سویٹزرلینڈ کے ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اجلاس میں سیاسی رہنما، کاروباری شخصیات اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے، جہاں وزیراعظم پاکستان کے مؤقف، معیشت، سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع اجاگر کریں گے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif departs for his official visit to Davos, Switzerland.
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) January 20, 2026
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ سطحی وفد بھی ڈیووس جائیں گے۔ اجلاس میں وزیراعظم ’منقسم دنیا میں مکالمے کی روح کی بحالی‘ کے موضوع پر خطاب کریں گے اور مختلف بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ پاکستان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی ’بزنس راؤنڈ ٹیبل‘ کی صدارت بھی کریں گے۔
دورے کے دوران وزیراعظم مختلف عالمی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کی معیشت، تجارت، سرمایہ کاری کے شعبے اور حکومت کے وژن و کامیابیوں کو اجاگر کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد میں ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں سیاسی قائدین، کاروباری رہنما، بین الاقوامی اداروں کے سربراہان اور سول سوسائٹی کے نمائندے ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور یہ فورم جغرافیائی سیاسی، معاشی، سماجی اور ماحولیاتی امور پر غور و خوض کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔