گل پلازہ 33 گھنٹوں تک جلتا رہا اور 100 کے قریب لاشیں چھوڑ گیا۔ کیا یہ نظام اب تبدیل ہوگا، یہ کچھ عرصہ بعد پھر کوئی نیا حادثہ ہوگا؟ وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس میں مستقبل کے بارے میں مکمل خاموشی ہے۔
کمشنر کراچی کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات ایک بے معنی عمل ہے۔ ہائی کورٹ کے 3 ججوں پر مشتمل ٹریبونل کی تحقیقات سے ہی کوئی نتیجہ سامنے آسکتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس محمد علی مظہر نے 2017ء میں آتش زدگی کے ایک واقعے کے بعد ایک جامع فیصلہ دیا تھا مگر اس فیصلے پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا۔
کراچی شہر کے قلب میں ایک بہت بڑے شاپنگ پلازہ گل سینٹر میں خوفناک آتش زدگی سے کراچی شہر کے انفرااسٹرکچر کے بوسیدہ ہونے کی حقیقت پھر آشکار ہوگئی۔ نئے سال کے پہلے مہینے میں کراچی میں آتش زدگی کے اس حادثے سے پھر ثابت ہوا کہ حکومت سندھ کا الیکٹرک ڈپارٹمنٹ ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور فائر بریگیڈ کا نظام بدستور تنزلی کا شکار ہے اور لاکھوں روپے ماہانہ کمانے والے دکاندار بھی قانون کی پامالی کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور دکانداروں کی انجمنیں ،مذہبی انتہاپسند عناصر کی پذیرائی کرکے سمجھتی ہیں کہ انھوں نے اپنے فرائض منصبی بخوبی ادا کیے ہیں۔
گل پلازہ 1800 مربع فٹ پر محیط ہے۔ اس پلازہ میں 1000 سے زائد دکانیں ہیں اور آمدورفت کے 16دروازے ہیں۔ گل پلازہ غیر ملکی سامان کے لیے شہرت رکھتا تھا۔ اس پلازہ میں فروخت ہونے والا سامان کسٹمز کی ڈیوٹی کی ادائیگی کے بعد فروخت ہوتا تھا، اس بارے میں دکانداروں اور کسٹمز ڈائریکٹریٹ کے افسران ہی جانتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موسم میں گل پلازہ میں خاصا رش ہوتا تھا۔ عمومی طور پر اس پلازہ میں دن کے 12 بجے کے بعد سے خریداری شروع ہوتی تھی اور رات 10 بجے تک خوب گہما گہمی رہتی تھی۔
عیدالفطر کے تہوار کے قریب آنے پر ساری رت دکانیں کھلی رہتی تھیں۔ اب تک ملنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گل پلازہ کی کسی منزل پر شارٹ سرکٹ کی بناء پر آگ بھڑک اٹھی اور اس آگ نے مختصر عرصے میں پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ گل پلازہ ایک گنجان آبادی والے علاقہ میں قائم ہے۔ ہفتہ کی رات کو اطراف کے علاقوں میں خوب رونق ہوتی ہے اور سرِ شام سے ہی ٹریفک جام ہونا شرو ع ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بلدیہ کراچی کا سب سے قدیم فائر بریگیڈ یہاں سے چند میل کے فاصلہ پر ہے مگر سرکاری طور پر یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے شہر سے 25 میل دور صفورا چوک اور نیپا کے ہائیڈرنٹس سے ٹینکروں کے ذریعہ پانی منگوایا جارہا تھا۔
ریڈ لائن پر کام مکمل نہ ہونے اور ٹریفک کے رش کی وجہ سے بہت دیر سے پانی پہنچا مگر اس کے ساتھ یہ سوال ہے کہ پورے ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کے پاس کوئی پانی کا ٹینک نہیں تھا جہاں سے فوری طور پر پانی حاصل کیا جاسکتا؟ پھر بدقسمتی یہ ہوئی کہ فائر بریگیڈ کا عملہ جب تیسری منزل پر آگ بجھا رہا تھا تو سیڑھیاں ٹوٹنے سے فائر فائیٹرز زمین پر گر کر زخمی ہوگئے۔ فائر بریگیڈ کے عملہ کے پاس آگ بجھانے کی جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ عملہ اب تک پانی اور فوم کے چھڑکاؤ سے آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔ کیمسٹری کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ جدید کیمیکلز سے آگ پر فوری طور پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں انسانی جانوں کو بچانے کے لیے حادثہ کے ابتدائی دو سے تین گھنٹے اہم ہوتے ہیں۔
اگر اس دوران آگ بجھانے کے ساتھ عمارت میں داخل ہوجائیں تو انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں مگر ناقص طریقہ کار کی بناء پر امدادی کارکن 23 گھنٹے بعد گل پلازہ میں داخل ہوپائے۔ ان کے پاس جانداروں کی نشاندہی کرنے والا آلہ نہیں ہے۔ محض ملبہ میں 23 گھنٹوں تک پھنسے رہنے والا شخص اگر زندہ بھی ہوگا تو کسی آواز پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔ سوال یہ ہے کہ کراچی میں گزشتہ سال آتش زدگی کے ڈھائی ہزار سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ ان آتش زدگی کے واقعات میں زیادہ تر کی وجہ شارٹ سرکٹ تھی۔ لہٰذا یہ مسئلہ عمارت کی تعمیر اور بجلی کی ناقص وائرنگ سے منسلک ہوجاتا ہے۔ گل پلازہ 1995ء میں تعمیر ہوئی۔
کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے منظور شدہ نقشہ کے تحت یہ عمارت گراؤنڈ + 1 منزل پر مشتمل تھی۔ پھر اس کی تین منزلیں تعمیر ہوگئیں۔ پہلے اس عمارت میں 500دکانوں کی گنجائش تھی مگر پھر یہ تعداد 1000 سے زائد تک پہنچ گئی۔ ظاہر ہے کہ بجلی کے نظام کی تنصیب کے قوانین کو نظرانداز کیے گئے ہوں گے۔ ان کنکشن میں ناقص سامان استعمال ہوا ہوگا۔ بجلی کے جدید نظام میں ہر کنکشن کے ساتھ سرکٹ بریگر لگائے جاتے ہیں۔ اگر کہیں شارٹ سرکٹ ہوجائے تو یہ بریکر خودکار نظام کے ذریعہ بجلی منقطع کردیتے ہیں۔ ہر فلور پر ایک بڑا سرکٹ بریکر کا بورڈ نصب کیا جاتا ہے۔ بجلی کے جدید نظام کے طریہ کار پر عملدرآمد کیا جائے تو بجلی کے شرٹ سرکٹ سے آتش زدگی کے نقصانات کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ ہر عمارت میں آتش زدگی کی صورت میں پانی کی فراہمی کا متبادل نظام قائم ہونا ضروری ہوتا ہے۔
اس نظام میں ہر فلور میں بنگامی بنیادوں پر پانی پھینکنے کے لیے پائپ نصب ہوتا ہے اور آتش زدگی کی صورت میں اس پائپ کے ذریعہ آگ بجھانے کا کام شرو ع ہوجاتا ہے۔ ہر فلور پر الارم کا نظام نصب ہوتا ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورت میں الارم بجنا شروع ہوجاتے ہیں اور فوری طور پر لوگ پلازہ سے نکل جاتے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الارم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو آخری وقت تک آتش زدگی کے واقعہ کا علم ہی نہ ہوسکا اور لاعلمی کی وجہ سے وہ لوگ سانس گھٹنے کے باعث انتقال کرگئے۔ ہر فلور پر آگ بجھانے والے سلنڈر لگائے جاتے ہیں۔ یہ سلنڈر لگانے والی کمپنی کی ذمے داری ہوتی ہے کہ ایک مقررہ وقت کے بعد ان سلینڈر کو تبدیل کرے مگر کراچی کی بیشتر عمارتوں میں یہ نظا م موجود نہیں ہے۔
حکومت سندھ کے توانائی کے محکمہ کے تحت کام کرنے والے الیکٹرک انسپکٹر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ ہر عمارت کا معائنہ کیا جائے اور جس عمارت کے مکین بجلی کے استعمال کے قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کرتے ان پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ قواعد کے تحت ایسی عمارتوں کو سیل تک کیا جاسکتا ہے۔ بلدیہ کراچی کے عملے کی یہ ذمے داری ہے کہ ہر عمارت میں آگ بجھانے کے متبادل نظام کی تنصیب کا جائزہ لے اور جہاں پانی کا متبادلہ نظام نہ ہو اور آگ بجھانے والے سلنڈر موجود نہ ہوں ان عمارتوں کو سیل کردیا جائے۔ کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ بڑی عمارتوں کے دکانداروں کی انجمنوں کا بڑا منفی کردار ہے۔ یہ انجمن اپنے اراکین سے ماہانہ ہزاروں روپے چندہ وصول کرتی ہیں مگر یہ رقم عمارتوں کی مرمت، بجلی اور پانی کی لائنوں کی مرمت اور سیوریج کے نام کو بہتر کرنے کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ انجمنیں عمارتوں کامعائنہ کے لیے آنے والے سرکاری عملہ کو رشوت دے کر انھیں عمارتوں سے باہر سے ہی رخصت کردیتی ہیں۔ گل پلازہ کے دکاندار تو لٹ گئے۔ ان کا جانی اور مالی نقصان کوئی پورا نہیں کرسکتا مگر ان کی انجمنوں نے کبھی ضلعی حکام کی توجہ گل پلازہ میں قائم ہونے والی تجاوزات اور بجلی کے ناقص نظام کی طرف توجہ مبذول نہیں کرائی۔ ساری دنیا میں بازار صبح کھلتے ہیں اور شام 6 بجے بند ہوجاتے ہیں۔ اگر گل پلازہ کے دکاندار شام 6بجے دکانیں بند کررہے ہوتے تو اتنا بڑا المیہ نہیں ہوتا۔بعض افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ دکانداروں کی انجمن ہی اصل میں پلازہ میں تجاوزات کے قائم کرنے کی ذمے دار ہیں۔
کراچی میں آتش زدگی کا یہ نہ ہی پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری ہوگا۔ 2012ء میں بلدیہ فیکٹری میں آتش زدگی کے حادثے میں 250 مزدور جاں بحق ہوئے تھے مگر اس حادثہ کے بعد فیکٹریوں میں حالات بہتر نہیں ہوئے۔ گزشتہ سال ملینیئم مال میں آتش زدگی کے واقعے میں 500 دکانیں جل گئی تھیں اور اربوں روپوں کا نقصان ہوا تھا۔
اسی طرح 2023ء میں آر جے مال میں آگ لگنے سے 10 افراد جاں بحق ہوئے اور 22 زخمی ہوئے۔ اسی سال عائشہ منزل کے قریب رہائشی کمپلیکس میں آگ میں 950 فلیٹ اور 25 دکانیں تباہ ہوگئی تھیں۔ اب بھی کچھ لوگوں کو ریجنٹ پلازہ میں آتش زدگی کا خوف ناک واقعہ یاد آجاتا ہے۔ ان تمام واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان حادثات کے ذمے دار کسی شخص کا احتساب نہیں ہوا۔ محض میئر کو برا کہنے کے بجائے اس سبق کو محسوس کیا جائے کہ کرپشن کی بنیادر پر قائم ہونے والے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرکے ہی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں آتش زدگی کے فائر بریگیڈ کہنا ہے کہ پلازہ میں آگ بجھانے گل پلازہ جاتے ہیں کیا جائے ہر فلور ہوتا ہے ہوتی ہے بجلی کے ہیں اور کے بعد ہے اور کی وجہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔