data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260121-08-10
کراچی ( اسٹاف ر پورٹر)وزارت سمندر پار پاکستانی وترقی انسانی وسائل، حوامت پاکستان کے ذیلی ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن(EOBI) کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ نے آجران اور ملازمین کیلئے جامع آگاہی مہمات کی منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور ای او بی آئی کے قانون پر مؤثر عمل درآمد کیلئے ادارہ کے سینئر افسر شکیل احمد، ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ، ہیڈ آفس کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی آگہی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ واضح رہے کہ ای او بی آئی 1976 ء سے نجی شعبہ کے لاکھوں ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد بڑھاپا پنشن، معذوری پنشن اور یکمشت اولڈ ایج گرانٹ ادا کرنے کے علاوہ ان کی وفات کی صورت میں ان کے بے سہارا پسماندگان کو پسماندگان پنشن، والدین پنشن اور طفلی پنشن فراہم کرکے ماہانہ مالی کفالت کا فریضہ انجام دے رہا ہے لیکن آجران کی اکثریت کی عدم دلچسپی کے باعث ملازمین کا ایک بڑا طبقہ اپنی ای او بی آئی پنشن کے حق سے محروم ہے۔ ای او بی آئی انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دی گئی اس آگہی کمیٹی کے قیام کا مقصد ملک بھر کے آجروں، ملازمین اور دیگر متعلقہ فریقین میں ملازمین کے بڑھاپا فوائد کے قانون 1976ء کے تحت ملک بھر کے صنعتی ،کاروباری، تجارتی، مالیاتی،تعلیمی، طبی،میڈیا ہاؤسز،فلاحی، خیراتی اور دیگر اداروں اور ان کے تمام ملازمین کی ای او بی آئی میں لازمی رجسٹریشن کو یقینی بنانا، آجران میں ماہانہ کنٹری بیوشن کی ادائیگی کی ذمے داریوں کا احساس بیدار کرنے کیساتھ ساتھ ان اداروں میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں ملازمین کو ای او بی آئی پنشن فوائد کے بارے میں آگہی و معلومات فراہم کرکے ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ آگہی کمیٹی کے ارکان میں علی انور جمالی،ڈائریکٹر ریجنل آفس بن قاسم، صدف رانا،ڈپٹی ڈائریکٹر آڈٹ ڈپارٹمنٹ، نجیب اللہ خان، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی ڈپارٹمنٹ شامل ہیںجبکہ غلام اصغر شیخ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایچ آر / جی اے ڈپارٹمنٹ کو اس کمیٹی کا رکن/سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: او بی ا ئی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے