ای او بی آئی: آجران اور ملازمین کی آگہی کیلیے ملک گیر مہم
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-08-10
کراچی ( اسٹاف ر پورٹر)وزارت سمندر پار پاکستانی وترقی انسانی وسائل، حوامت پاکستان کے ذیلی ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن(EOBI) کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ نے آجران اور ملازمین کیلئے جامع آگاہی مہمات کی منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور ای او بی آئی کے قانون پر مؤثر عمل درآمد کیلئے ادارہ کے سینئر افسر شکیل احمد، ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ، ہیڈ آفس کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی آگہی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ واضح رہے کہ ای او بی آئی 1976 ء سے نجی شعبہ کے لاکھوں ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد بڑھاپا پنشن، معذوری پنشن اور یکمشت اولڈ ایج گرانٹ ادا کرنے کے علاوہ ان کی وفات کی صورت میں ان کے بے سہارا پسماندگان کو پسماندگان پنشن، والدین پنشن اور طفلی پنشن فراہم کرکے ماہانہ مالی کفالت کا فریضہ انجام دے رہا ہے لیکن آجران کی اکثریت کی عدم دلچسپی کے باعث ملازمین کا ایک بڑا طبقہ اپنی ای او بی آئی پنشن کے حق سے محروم ہے۔ ای او بی آئی انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دی گئی اس آگہی کمیٹی کے قیام کا مقصد ملک بھر کے آجروں، ملازمین اور دیگر متعلقہ فریقین میں ملازمین کے بڑھاپا فوائد کے قانون 1976ء کے تحت ملک بھر کے صنعتی ،کاروباری، تجارتی، مالیاتی،تعلیمی، طبی،میڈیا ہاؤسز،فلاحی، خیراتی اور دیگر اداروں اور ان کے تمام ملازمین کی ای او بی آئی میں لازمی رجسٹریشن کو یقینی بنانا، آجران میں ماہانہ کنٹری بیوشن کی ادائیگی کی ذمے داریوں کا احساس بیدار کرنے کیساتھ ساتھ ان اداروں میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں ملازمین کو ای او بی آئی پنشن فوائد کے بارے میں آگہی و معلومات فراہم کرکے ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ آگہی کمیٹی کے ارکان میں علی انور جمالی،ڈائریکٹر ریجنل آفس بن قاسم، صدف رانا،ڈپٹی ڈائریکٹر آڈٹ ڈپارٹمنٹ، نجیب اللہ خان، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی ڈپارٹمنٹ شامل ہیںجبکہ غلام اصغر شیخ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایچ آر / جی اے ڈپارٹمنٹ کو اس کمیٹی کا رکن/سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: او بی ا ئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔