بنگلا دیش: روہنگیا کیمپ میں آتش زدگی سے تباہی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلا دیش کے شہر کاکسس بازار کے علاقے یوکھیا میں روہنگیا کیمپ نمبر 16 میں آگ لگنے سے448 پناہ گاہیں، 2مساجد، 10 اسکول اور ایک مدرسہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق آگ منگل کے روز رات 3 بج کر 45 منٹ پر پالونگ کھالی یونین کے شفیع اللہ کاٹا علاقے میں واقع کیمپ کے ڈی 4 بلاک میں لگی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کیمپ کے ایک رہائشی محمد انیس نے رات تقریباً پونے تین بجے گیس کے چولہے پر پانی رکھا اور پھر سو گئے۔ چولہا جلتا رہ جانے سے آگ بھڑک اٹھی جو تیزی سے قریبی پناہ گاہوں تک پھیل گئی۔ آگ رات کے آخری پہر لگی جو تیزی سے پھیل گئی جس کے باعث پورے کیمپ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعہ کی اطلاع پر اوکھیا فائر سروس اور سول ڈیفنس کے 2یونٹس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور روہنگیا رضاکاروں کی مدد سے آگ بجھانے کی کارروائی شروع کی اور تقریباً 2گھنٹے کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔ اوکھیا فائر سروس اینڈ سول ڈیفنس کے سٹیشن آفیسر ڈالر تری پورہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کی اور رضاکاروں کی مدد سے آگ کو پھیلنے سے روک لیا۔ کیمپ نمبر 16 کے ڈی بلاک کے کمیونٹی لیڈر محمد ریاض نے بتایا کہ آگ سے شدید نقصان ہوا ہے اورپناہ گاہیں، مساجد، اسکول اور ایک مدرسہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئے۔ مالی نقصانات کا فوری طور پر اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔اوکھیا کے اپازلا نرباہی آفیسر (یو این او) رفعت اسما نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آگ سے بڑی تعداد میں پناہ گاہیں اور دیگر ڈھانچے متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی نقصانات کا تخمینہ لگانے کا کام جاری ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال 26 دسمبر کو کیمپ نمبر 4 میں لگنے والی آگ میں ایک اسپتال تباہ ہو گیا تھا جبکہ 25 دسمبر کی رات کتوپالونگ رجسٹرڈ روہنگیا کیمپ میں آگ لگنے سے10سے زائد گھر متاثر ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔