Jasarat News:
2026-06-02@22:19:59 GMT

بنگلا دیش: روہنگیا کیمپ میں آتش زدگی سے تباہی

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلا دیش کے شہر کاکسس بازار کے علاقے یوکھیا میں روہنگیا کیمپ نمبر 16 میں آگ لگنے سے448 پناہ گاہیں، 2مساجد، 10 اسکول اور ایک مدرسہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق آگ منگل کے روز رات 3 بج کر 45 منٹ پر پالونگ کھالی یونین کے شفیع اللہ کاٹا علاقے میں واقع کیمپ کے ڈی 4 بلاک میں لگی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کیمپ کے ایک رہائشی محمد انیس نے رات تقریباً پونے تین بجے گیس کے چولہے پر پانی رکھا اور پھر سو گئے۔ چولہا جلتا رہ جانے سے آگ بھڑک اٹھی جو تیزی سے قریبی پناہ گاہوں تک پھیل گئی۔ آگ رات کے آخری پہر لگی جو تیزی سے پھیل گئی جس کے باعث پورے کیمپ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعہ کی اطلاع پر اوکھیا فائر سروس اور سول ڈیفنس کے 2یونٹس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور روہنگیا رضاکاروں کی مدد سے آگ بجھانے کی کارروائی شروع کی اور تقریباً 2گھنٹے کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔ اوکھیا فائر سروس اینڈ سول ڈیفنس کے سٹیشن آفیسر ڈالر تری پورہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کی اور رضاکاروں کی مدد سے آگ کو پھیلنے سے روک لیا۔ کیمپ نمبر 16 کے ڈی بلاک کے کمیونٹی لیڈر محمد ریاض نے بتایا کہ آگ سے شدید نقصان ہوا ہے اورپناہ گاہیں، مساجد، اسکول اور ایک مدرسہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئے۔ مالی نقصانات کا فوری طور پر اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔اوکھیا کے اپازلا نرباہی آفیسر (یو این او) رفعت اسما نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آگ سے بڑی تعداد میں پناہ گاہیں اور دیگر ڈھانچے متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی نقصانات کا تخمینہ لگانے کا کام جاری ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال 26 دسمبر کو کیمپ نمبر 4 میں لگنے والی آگ میں ایک اسپتال تباہ ہو گیا تھا جبکہ 25 دسمبر کی رات کتوپالونگ رجسٹرڈ روہنگیا کیمپ میں آگ لگنے سے10سے زائد گھر متاثر ہوئے تھے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی