Jasarat News:
2026-06-03@04:52:28 GMT

کرپشن ڈاکو راج سندھ کی پہچان بن چکے ہیں،سہیل شارق

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260121-11-13
ٹنڈوآدم ( نمائندہ جسارت )پیپلز پارٹی عوامی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں، کرپشن و ڈاکوراج سندھ کی پہچان بن چکی ہے ، دیانت دار قیادت اور نظام کہ تبدیلی ہی مسائل کا حل ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری سہیل احمد شارق اور امیر جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ رفیق منصوری نے شہدادپور جماعت اسلامی کے زیر اہتمام اسٹڈی سرکل کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کے چہیتے وزریراعلیٰ سندھ اور ان کی حکومت سندھ میں قانون کی بالادستی اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے کچھ طاقتیں سندھ کے وسائل پر قبضے کی بات کرکے بلاول زرداری عوام کی توجہ تبدیل کرنا ہیں، حالانکہ پی پی گزشتہ 17 برسوں سے تسلسل کے ساتھ سندھ میں برسر اقتدار ہیں۔ جس طرح ان کی پارٹی نے پانی ، کارونجھر پہاڑ سے لیکر گیس بجلی کوئلہ گورکھ ہل اور این ایف سی ایوارڈ کی رقم، سندھ کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور سودے بازی کی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ وسائل سے مالامال سندھ کے عوام آج کے جدید دور میں بھی پینے کے صاف پانی صحت و تعلیم اور امن جیسی بنیادی سہولت سے محروم، 78لاکھ بچے اسکولز سے باہر، 50 فیصد گیس اور 30 فیصد گھرانے سندھ میں بجلی کی نعمت سے محروم ہیں۔ گیس کی کل پیداوار میں 72 فیصد سندھ دیتا ہے۔ تھر کے کوئلہ سے بننے والی بجلی پورے ملک میں پہنچائی جارہی ہے مگر سندھ میں چولہے ٹھنڈے اور اندھیروں کا راج ہے۔کرپشن اور ڈاکوراج سندھ کی پہچان بنادی ہے ثابت ہوگیا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ کے عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ہزاروں ارب روپے وفاق سے ملنے کے باوجود لاڑکانہ سمیت سندھ کے شہر موئن جو دڑو کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ہر شہر میں قبضہ خوروں کا راج اور سیوریج سسٹم تباہ ہے۔ تھر کول سے کمپنیوں نے رائلٹی کی مد میں 32ارب روپے سندھ حکومت کو دیے مگر 80 فیصد تھر کی آبادی بجلی روڈ راستوں اور صاف پانی سمیت زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ غربت وافلاس اور خوراک کی قلت کی وجہ سے بچے مررہے ہیں لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کرپشن کی بے تاج بادشاہ ہے جس نے سندھ کے عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے اپنے نعرے کے برعکس عوام سے روٹی کپڑا اور مکان چھینا ہے۔ سندھ کے وسائل کی حفاظت کے بجائے لوٹ ماراور سودے بازی کی ہے۔ اس لیے تو لاڑکانہ کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کیس پر عدالت کو یہ ریمارکس دینے پڑے کہ ڈائن بھی سوگھر چھوڑدیتی ہے۔ اس لیے نظام و قیادت کی تبدیلی سے ہی سندھ کی تقدیر بدل سکتی ہے جس کے لیے جماعت اسلامی بدل دو نظام کو سنوار دو سندھ کو مہم چلا رہی ہے عوام حقیقی تبدیلی سندھ سے بے امنی ڈاکو راج کرپشن و بے امنی کے خاتمے اور عدل وانصاف کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد کا ساتھ دیں، پروگرام میں جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ کے جنرل سیکرٹری ارشد علی خاصخیلی ، ایاز علی عمرانی شوکت علی کمبوہ ، آصف محمود قریشیاور شفیق الرحمن بھی موجود تھے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی سندھ کی سندھ کے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی