سانحہ گل پلازہ ، متاثرہ تاجروں کو صدر پارکنگ پلازہ میں منتقل کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اگر اس کیس کی فائل کو روایتی کارروائی کے بعد بغیر کسی نتیجے کے بند کیا گیا تو استعفیٰ دے دوں گا،گورنر سندھ
عارضی طور پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جا سکے، کامران ٹیسوری نے میئر کراچی کو خط لکھنے کا اعلان کردیا
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ دکانداروں کو صدر میں قائم خالی پارکنگ پلازہ کی عمارت میں منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے میٔر کراچی کو خط لکھنے کا اعلان کردیا۔گورنر سندھ نے تاجر برادری کے نمائندوں کے ہمراہ گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک بڑا المیہ ہے اور اس موقع پر پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے متاثرہ تاجروں کی عملی مدد ہونی چاہیے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ میٔر کراچی کو خط لکھیں گے تاکہ پارکنگ پلازہ میں متاثرہ تاجروں کو عارضی طور پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جا سکے۔گورنر سندھ نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے اپیل کی کہ وہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ساتھ مل کر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔انہوں نے کہا کہ گل پلازہ انتظامیہ کے صدر سے بھی بات ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ معاملات کس طرح چل رہے تھے۔کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ وہ وزیراعظم پاکستان سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ کراچی آئیں اور وفاقی سطح پر فنڈز کے حصول کے لیے بات کریں۔انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے کے معاوضے کے اعلان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔گورنر سندھ نے پاک نیوی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک نیوی کے اہلکار 20 منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچے اور ریسکیو آپریشن میں بھرپور کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ شہر 70 فیصد ریونیو دیتا ہے، پھر بھی ہمیں بار بار دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جذبے کی کوئی کمی نہیں، خود دیکھا کہ تمام اداروں کے افسران اور اہلکار دل سے کام کر رہے تھے۔گورنر سندھ نے اس موقع پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ڈاکٹر فاروق ستار کی بھی تعریف کی جنہوں نے اسمبلی میں چار گھنٹے اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔کامران ٹیسوری نے متاثرہ تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ وزیراعظم کے علاوہ خصوصی اور ایم این اے فنڈز لاکر اُن کا ازالہ بھی کریں گے۔گورنر سندھ نے کہا کہ اگر اس کیس کی فائل بغیر کسی نتیجے کے روایت کے مطابق بند کرنے کی کوشش کی گئی تو کم از کم میں استعفی دے دوں گا کیونکہ ہمیں منصب پر رہنے کی وجہ سے اللہ کو جواب دینا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: متاثرہ تاجروں گورنر سندھ نے ٹیسوری نے نے کہا کہ گل پلازہ انہوں نے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔