پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سینٹر میں تقریباً 60 درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے کے عوض بیچا بھی جاچکا ہے۔
تقریباً 40 سال پرانے یہ درخت یونیورسٹی کا حسن سمجھے جاتے تھے، وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے باقی درختوں کی کٹائی روک دی ہے اور ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی۔
ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق، شیخ زاید اسلامک سینٹر ایک خود مختار ادارہ ہے اور اس کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اعتماد میں لیے بغیر اتوار کی رات درختوں کی کٹائی شروع کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
سیکیورٹی افسران کی رپورٹ پر گارڈز نے موقع پر پہنچ کر کٹائی روکی اور لکڑی سے بھری ٹریکٹر ٹرالی کو بھی روک لیا۔
کٹنے والے درختوں میں کچھ سوکھے درخت بھی شامل تھے، تاہم انہیں کاٹنے کے لیے بھی قوانین اور ضوابط کی پابندی نہیں کی گئی۔
وائس چانسلر نے اسے سنگین جرم قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کی ہدایات دی ہیں اور کہا ہے کہ اس نقصان کی فوری تلافی ممکن نہیں، تاہم اسی جگہ سینکڑوں نئے درخت لگائے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: درختوں کی کٹائی نہیں، منظم شجرکاری ہو رہی ہے، طلال چوہدری کا قومی اسمبلی میں بیان
پنجاب یونیورسٹی میں کاٹے گئے درختوں کی تعداد 40 بتائی گئی ہے، جبکہ 20 درختوں کو فوری ایکشن لیتے ہوئے بچا لیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لاہور ہائیکورٹ نے شہر میں درختوں کی کٹائی پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔
عدالت نے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کوئی بھی درخت یا اس کی شاخ کاٹنے سے پہلے ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے کی تحریری اجازت لازمی حاصل کی جائے۔
مزید پڑھیں:
عدالت نے حال ہی میں کینال روڈ پر درختوں کی کٹائی کے معاملے پر پی ایچ اے افسران کو تنبیہ کرتے ہوئے غیر قانونی کٹائی پر مقدمات کا انتباہ دیا تھا۔
اسی طرح، پنجاب حکومت نے بھی لاہور شہر میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
حکومت کی ہدایات پر پی ایچ اے نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ غیر مجاز طور پر کسی بھی درخت کو کاٹنا یا تراشنا ممنوع ہے، حتیٰ کہ معمولی شاخوں کی کٹائی کے لیے بھی پیشگی تحریری اجازت ضروری ہے۔
مزید پڑھیں:
یہ پابندی ماحولیاتی تحفظ اور شہری ہریالی کو فروغ دینے کے لیے نافذ کی گئی ہے اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ لاہور جیسے آلودہ شہر میں درختوں کی کٹائی ماحولیاتی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے، شیخ زاید اسلامک سینٹر کی انتظامیہ نے نجی کنٹریکٹر کی خدمات حاصل کیں، جو قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی متوقع ہے، شجر دوست کمیونٹی نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب یونیورسٹی شیخ زاید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب یونیورسٹی شیخ زاید میں درختوں کی کٹائی پنجاب یونیورسٹی پی ایچ اے شیخ زاید کے لیے
پڑھیں:
بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے سوالات پر پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے ویڈیو ثبوت کے ساتھ جواب دیدیے۔آزاد کشمیر کے انتخابی جلسے میں پنجاب کے شہروں کی صورتِ حال پر سوال اٹھاتے بلاول کو پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگ زیب نے ویڈیو جاری کر کے جواب دیا۔ بلاول نے لاہور کے علاوہ پنجاب کے جن شہروں کے حالات پر سوال اٹھایا ، مریم اورنگزيب نے انہی شہروں کی ویڈیو شیرکردی۔مریم اورنگزيب نے پنجاب کے مختلف شہروں کی سڑکوں اور صفائی کی صورتِحال کی ویڈیو شیئر کی۔ وہاڑی اور قصور پر بلاول کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وہاڑی اور قصور کی سڑکوں ، گلیوں اور صفائی کی صورتِ حال کی ویڈیو کے ساتھ دیا۔