WE News:
2026-06-03@01:46:23 GMT

پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ کیا ہے؟

پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سینٹر میں تقریباً 60 درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے کے عوض بیچا بھی جاچکا ہے۔

تقریباً 40 سال پرانے یہ درخت یونیورسٹی کا حسن سمجھے جاتے تھے، وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے باقی درختوں کی کٹائی روک دی ہے اور ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی۔

ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق، شیخ زاید اسلامک سینٹر ایک خود مختار ادارہ ہے اور اس کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اعتماد میں لیے بغیر اتوار کی رات درختوں کی کٹائی شروع کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟

سیکیورٹی افسران کی رپورٹ پر گارڈز نے موقع پر پہنچ کر کٹائی روکی اور لکڑی سے بھری ٹریکٹر ٹرالی کو بھی روک لیا۔

کٹنے والے درختوں میں کچھ سوکھے درخت بھی شامل تھے، تاہم انہیں کاٹنے کے لیے بھی قوانین اور ضوابط کی پابندی نہیں کی گئی۔

وائس چانسلر نے اسے سنگین جرم قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کی ہدایات دی ہیں اور کہا ہے کہ اس نقصان کی فوری تلافی ممکن نہیں، تاہم اسی جگہ سینکڑوں نئے درخت لگائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: درختوں کی کٹائی نہیں، منظم شجرکاری ہو رہی ہے، طلال چوہدری کا قومی اسمبلی میں بیان

پنجاب یونیورسٹی میں کاٹے گئے درختوں کی تعداد 40 بتائی گئی ہے، جبکہ 20 درختوں کو فوری ایکشن لیتے ہوئے بچا لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لاہور ہائیکورٹ نے شہر میں درختوں کی کٹائی پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔

عدالت نے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کوئی بھی درخت یا اس کی شاخ کاٹنے سے پہلے ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے کی تحریری اجازت لازمی حاصل کی جائے۔

مزید پڑھیں:

عدالت نے حال ہی میں کینال روڈ پر درختوں کی کٹائی کے معاملے پر پی ایچ اے افسران کو تنبیہ کرتے ہوئے غیر قانونی کٹائی پر مقدمات کا انتباہ دیا تھا۔

اسی طرح، پنجاب حکومت نے بھی لاہور شہر میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

حکومت کی ہدایات پر پی ایچ اے نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ غیر مجاز طور پر کسی بھی درخت کو کاٹنا یا تراشنا ممنوع ہے، حتیٰ کہ معمولی شاخوں کی کٹائی کے لیے بھی پیشگی تحریری اجازت ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:

یہ پابندی ماحولیاتی تحفظ اور شہری ہریالی کو فروغ دینے کے لیے نافذ کی گئی ہے اور خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ لاہور جیسے آلودہ شہر میں درختوں کی کٹائی ماحولیاتی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے، شیخ زاید اسلامک سینٹر کی انتظامیہ نے نجی کنٹریکٹر کی خدمات حاصل کیں، جو قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی متوقع ہے، شجر دوست کمیونٹی نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب یونیورسٹی شیخ زاید.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب یونیورسٹی شیخ زاید میں درختوں کی کٹائی پنجاب یونیورسٹی پی ایچ اے شیخ زاید کے لیے

پڑھیں:

ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم

حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔

ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظام

پنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع

اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔

موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیں

نئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔

پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاری

ٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔

مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کار

شہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان