ناسا کی معروف خلا باز سنیتا ولیمز 27 سالہ طویل کیریئر کے بعد ریٹائر ہو گئی ہیں۔ ناسا کی جانب سے ان کی ریٹائرمنٹ کا اعلان منگل کے روز کیا گیا، تاہم یہ فیصلہ گزشتہ کرسمس کے فوراً بعد 27 دسمبر 2025 سے نافذ العمل ہو چکا تھا۔

سنیتا ولیمز کی آخری خلائی مہم محض 10 دن کی ہونی تھی، لیکن تکنیکی وجوہات کے باعث یہ مشن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر ساڑھے 9 ماہ تک طویل ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی خاتون خلاباز نمیرا سلیم نے نئی تاریخ رقم کر دی

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے سنیتا ولیمز کو انسانی خلائی پرواز کی ایک علمبردار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سنیتا ولیمز نے خلائی اسٹیشن پر اپنی قیادت کے ذریعے انسانی خلائی تحقیق کے مستقبل کو نئی سمت دی۔ ان کی خدمات نے کمرشل مشنز، چاند (آرٹیمس پروگرام) اور مریخ کی جانب سفر کی بنیاد رکھی۔ ان کی کامیابیاں آنے والی نسلوں کو بڑے خواب دیکھنے اور ناممکن کو ممکن بنانے کی ترغیب دیتی رہیں گی۔

27 سال میں 3 خلائی مشنز، 608 دن خلا میں

امریکی خلا باز سنیتا ولیمز کو 1998 میں ناسا نے منتخب کیا تھا۔ انہوں نے 3 خلائی مشنز کے دوران مجموعی طور پر 608 دن خلا میں گزارے، جو کسی بھی ناسا خلا باز کی مجموعی خلائی موجودگی میں دوسرا بڑا ریکارڈ ہے۔

وہ امریکی خلا بازوں میں طویل ترین واحد خلائی قیام کی فہرست میں چھٹے نمبر پر ہیں، جہاں وہ خلا باز بَچ ولمور کے ساتھ مشترکہ طور پر 286 دن خلا میں رہیں۔

خواتین خلا بازوں میں تاریخی ریکارڈ

سنیتا ولیمز نے 9 خلائی چہل قدمیاں (Spacewalks) انجام دیں، جن کا مجموعی دورانیہ 62 گھنٹے اور 6 منٹ رہا۔ یہ کسی بھی خاتون خلا باز کی جانب سے سب سے زیادہ ہے، جبکہ مجموعی طور پر ناسا کی آل ٹائم فہرست میں وہ چوتھے نمبر پر ہیں۔

وہ خلا میں میرا تھون دوڑنے والی دنیا کی پہلی انسان بھی ہیں۔

پہلا مشن: اسپیس شٹل ڈسکوری (2006)

سنیتا ولیمز نے پہلی بار 9 دسمبر 2006 کو اسپیس شٹل ڈسکوری کے ذریعے خلا کا سفر کیا۔ وہ ایکسپیڈیشن 14/15 کا حصہ تھیں اور فلائٹ انجینئر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
اس مشن کے دوران انہوں نے 4 خلائی چہل قدمیاں انجام دیں، جن کا مجموعی وقت 29 گھنٹے سے زائد تھا، جو اس وقت ایک عالمی ریکارڈ تھا۔

دوسرا مشن: قازقستان سے روانگی (2012)

ان کا دوسرا خلائی مشن 14 جولائی 2012 کو قازقستان کے بائیکونور کاسموڈروم سے شروع ہوا۔ 127 دنوں پر مشتمل اس مشن میں انہوں نے خلائی اسٹیشن پر امونیا لیک کی مرمت اور شمسی توانائی کے نظام کی تبدیلی جیسے اہم کام انجام دیے۔

تیسرا اور طویل ترین مشن: اسٹار لائنر (2024–2025)

سنیتا ولیمز کا تیسرا اور سب سے طویل مشن جون 2024 میں بوئنگ اسٹار لائنر خلائی جہاز کے ذریعے شروع ہوا۔ وہ اور خلا باز بَچ ولمور ایکسپیڈیشن 71/72 کا حصہ بنے اور مارچ 2025 میں زمین پر واپس آئے۔

سنیتا ولیمز کا بھارتی پس منظر

سنیتا ولیمز کے والد ڈاکٹر دیپک پانڈیا ایک نیورو ایناٹومسٹ تھے، جن کا تعلق بھارتی ریاست گجرات کے ضلع مہسانہ کے گاؤں جھولا سن سے تھا۔ بعدازاں وہ امریکا منتقل ہوئے اور سلووینیا سے تعلق رکھنے والی بونی پانڈیا سے شادی کی۔

یہ بھی پڑھیے 8 دن کا خلائی دورہ امریکی خلابازوں کے لیے 8 ماہ کی سزا بن گیا

اوہائیو میں پیدا ہونے والی سنیتا ولیمز میساچوسٹس کو اپنا آبائی شہر قرار دیتی ہیں۔ وہ اپنے شوہر مائیکل کے ساتھ کتوں کی دیکھ بھال، ورزش، گھروں اور گاڑیوں کی مرمت، ہوائی جہازوں، ہائیکنگ اور کیمپنگ کا شوق رکھتی ہیں۔

خلا میرا پسندیدہ مقام ہے، سنیتا ولیمز

ریٹائرمنٹ کے موقع پر سنیتا ولیمز نے کہا ’خلا میرے لیے سب سے پسندیدہ جگہ ہے۔ 3 بار خلا میں جانے اور 27 سال ناسا میں خدمات انجام دینا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ یہ سب میرے ساتھیوں کی محبت اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ خلائی اسٹیشن، وہاں کی سائنس اور انجینئرنگ نے چاند اور مریخ کی جانب اگلے سفر کو ممکن بنایا ہے۔ میں ناسا اور اس کے شراکت داروں کو نئی تاریخ رقم کرتے دیکھنے کے لیے پُرجوش ہوں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سنیتا ولیمز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سنیتا ولیمز سنیتا ولیمز نے خلائی اسٹیشن دن خلا میں کی جانب خلا باز

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں