حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے صحت کارڈ کی میعاد میں 2027 تک توسیع
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک اہم فلاحی فیصلہ کرتے ہوئے صحت سہولت پروگرام کو مالی سال 2027 تک توسیع دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے ہونے والے اس اقدام کے تحت مستحق خاندان سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت سے مستفید ہوتے رہیں گے، جسے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں صحت کی ضروریات کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف نے صحت کارڈ پروگرام کا باضابطہ افتتاح کردیا
پاکستان نے ایک بار پھر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ اپنی عملی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے صحت کارڈ پروگرام کو 2027 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس توسیع کے بعد دونوں خطوں کے مستحق خاندانوں کو ملک بھر کے منتخب سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں بغیر کسی مالی بوجھ کے علاج کی سہولت میسر رہے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کی کمی کو پورا کرنا اور عوام کو بروقت اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ صحت کارڈ کی توسیع سے نہ صرف غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف ملے گا بلکہ صوبائی ہیلتھ فنڈز پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہو گا اور صحت کے نظام میں تسلسل برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں صحت کارڈ کے ذریعے کیا صرف خیبرپختونخوا کے مریضوں کا مفت علاج ہورہا ہے؟
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود اس کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ صحت سہولت پروگرام کی 2027 تک توسیع کو وفاق اور ان اکائیوں کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس اقدام سے سرحدی اور دور دراز علاقوں میں بسنے والے شہریوں کو عالمی معیار کی طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر پاکستان صحت کارڈ گلگت بلتستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان صحت کارڈ گلگت بلتستان
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔