اسلام آباد:

سانحہ گل پلازہ پر قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد آنے سامنے آگیا جہاں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی اور وزیردفاع خواجہ آصف نے تنقید کی۔

قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت ہوا اور ایم کیو ایم کے مطالبے پر اجلاس کا ایجنڈا معطل کر کے کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ پر بحث کی گئی اور اس دوران حکمران اتحاد تقسیم ہوا اور سیاسی جماعتیں آمنے سامنے آ گئیں، ایک دوسرے پر الزمات کی بوچھاڑ کر دی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں گل پلازہ آتشزدگی پربحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی سانحہ ہے گل پلازہ کو سانحہ قرار دیا جائے، ایم کیوایم اور وفاقی حکومت کراچی کےعوام کےمسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے، کراچی کو 26کروڑ گیلن پانی فراہم کرنے کے منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ گل پلازہ سانحے کے 22 گھنٹے بعد پہنچے، جماعت اسلامی کا نمائندہ بھی 20 گھنٹے بعد آیا، گورنر سندھ کامران ٹیسوری ساری رات وہاں موجود رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تیسرے درجے کی آگ تھی مگر کراچی کی انتظامیہ لاپرواہ رہی، فائر فائٹر فرقان شہید نے اپنی جان دے کر آگ بچھانے کی کوشش میں جان کی بازی ہار گیا، اب بھی 80 لوگ لاپتا ہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی شہر 4 کروڑ آبادی کا شہر ہے، صدرآصف علی زرداری اپنی تقریر میں کہہ چکے ہیں، مگر کراچی کی آبادی کو دو کروڑ ظاہر کیا جاتا ہے، 4 کروڑ کی آبادی کے لیے محض 100 فائربریگیڈ ہیں جن میں سے 50 خراب ہیں، پورے شہر کے لیے محض 25 فائر بریگیڈ اسٹیشنز ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پارک اور باغ ختم کر رہے ہیں، قومی اسمبلی کراچی کےمسائل کے لیے اقدامات کیے، 50 فیصد سے زائد تجارتی مراکز ایسے ہیں جہاں فائربریگیڈ یا ایمرجنسی کےآلات نہیں، چین سے اینٹی فائر غبارے منگوائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہر شہری کے دل میں آگ لگی ہے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کےساتھ تعاون کریں لیکن آپ بھی کام کریں، آئیے مل کر کراچی کو ظہران ممدانی کا نیویارک یا صادق خان کا لندن بنائیں، آئیے 140 اے کو 28 ویں ترمیم کاحصہ بنائیں اور اس کو سیاست کی نذر نہ کریں کیونکہ یہ عوامی حقوق کامعاملہ ہے۔

یہ آگ ہے ہوجاتا ہے، رکن پی پی پی شہلا رضا

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے سانحہ گل پلازہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آگ لگی تو 40 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، لاہور میں حفیظ سینٹر میں تین مرتبہ آگ لگی لیکن اس پر کوئی سیاست نہیں کی گئی، یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عجیب ہے ایک واقعے کو بنیاد بنا کر آپ صوبوں تک 18ویں ترمیم اور بنیادی تعلیم تک چلے گئے، سندھ ایک ملک تھا جسے قبل از مسیح دیکھا جانا چاہیے۔

شہلا رضا کا کہنا تھا کہ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، یہ وہ واحد صوبہ ہے جس نے دل کھول کر مہاجرین کو ویلکم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں آگ مختلف جگہوں پر لگی تھی، آخر کون سا کیمیکل استعمال کیا گیا تھا کہ آگ پانی پھینکنے کے باوجود بجھتی نہیں تھی، پھر سوال یہ بھی ہے کہ 24 داخلی و خارجی راستے گل پلازہ کے کیوں بند تھے؟

انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی وجہ سے فائر بریگیڈ کو پہنچنے میں دیر لگی، میں مانتی ہوں کہ بلدیاتی نظام ہونا چاہیے، بلدیاتی نظام کی آڑ میں آج اندر کی کیا کیا باتیں سامنے آئیں، یہ کون سا موقع ہے کہ آپ آج اپنے دل کی بھڑاس نکالیں، جو بھی حسرتیں ہیں وہ اپنے طریقے سے بتائیں۔

اختیارات اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ناگزیر ہے، خواجہ آصف

وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں آتشزدگی اور حادثات جیسے واقعات کی روک تھام اور 25کروڑ عوام کو با اختیار بنانے کے لیے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بااختیار اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آمریت کے ادوار میں بھی مقامی حکومتیں چلتی رہیں، چین کے صدر بھی مقامی حکومتوں سے ہوتے ہوئے حکومت تک پہنچے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی اور آئے روز ڈمپر حادثات میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، کراچی اتنا بڑا شہر ہوگیا ہے کہ اس کا انتظام سنبھالنا ایک مشکل کام ہے، عوام کو بااختیار بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کا نظام لانا پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ 28ویں ترمیم میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کا مؤثر سسٹم تجویز کیا ہوا تھا، ایک اتفاق رائے تھی کہ مقامی حکومتوں کا نظام جو 18ویں ترمیم میں تجویز ہوا تھا اس پر عمل کریں، ہمیں وہ ترمیم بھی واپس لینا پڑی۔



سانحہ گل پلازہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی، لاپتا افراد کی فہرست 85 تک پہنچ گئی



فائربریگیڈ تاخیر سے پہنچی، گل پلازہ کے دکانداروں کا انکشاف



گل پلازہ آتشزدگی؛ وزیراعلیٰ سندھ کا کمشنر کو وجوہات معلوم کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنیکا حکم

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت اور پورے ملک میں نئی نسل پاکستانیت کے ساتھ ساتھ صوبائیت کو بھی پہنچانے، اس حوالہ سے نصاب ایک قومی شناخت دیتا ہے، ہمیں اس ترمیم کو بھی ڈراپ کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ پورے ملک میں مقامی حکومتوں کا فعال نظام ہونا چاہیے تاکہ اختیارات ضلع، تحصیل، یونین کونسل کی سطح تک منتقل ہوسکیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جب تک گلی محلے میں نمائند گی نہیں ہوگی تو نہ فائر بریگیڈ ہو گا نہ کوئی مسئلہ حل ہوگا اور وزارت دفاع، نیوی، ایوی ایشن کا فائر بریگیڈ آکے آگ بجھائے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف نے بھی بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام دیا اور باقاعدگی کے ساتھ الیکشن ہوتے رہے۔

انہوں نے کہا ہم لوگ الیکشن بھی نہیں کراتے بلکہ اگرشیڈول آجائے توصوبائی حکومتیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے صدر شی کو دیکھیں تو وہ مقامی حکومتوں سے آگے آئے، ترکیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک میں مقامی حکومتوں کا فعال نظام موجود ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ آئین میں ترمیم کر کے یکساں نصاب اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام لایا جائے۔

الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا، عبدالقادر پٹیل

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ 35سال جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے کراچی پر راج کیا،کراچی کو اس حال تک پہنچانے والی یہ دو جماعتیں ہیں، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس نے کراچی کے سانحات کے متاثرین کی مکمل مالی معاونت کی ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور سابق اسپیکر کی تقاریر کا خلاصہ ہے کہ ہم سب کو مل کر چلنا چاہیے، ہم 10سال سے یہی بات کر رہے ہیں لیکن ہمیں کہا گیا کہ ہم چور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، ارب پتی لوگ زمین پر آگئے، 10سال کراچی میں جماعت اسلامی نے راج کیا، 10سال دوسری جماعت جس کے لوگ اسمبلی میں حیرانی کے ساتھ تقاریر کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کراچی پر راج کیا، اس کے بعد دوبارہ جماعت اسلامی آگئی، جماعت اسلامی صدقہ، فطرانہ، چندہ،کھالیں بھی لیتی ہے اور سارے پیسے کراچی میں بینرز لگا کر خرچ کردیتی ہے، 35سال دو جماعتوں نے کراچی پر راج کر کے کراچی کو اس حال تک پہنچایا۔

عبدلقادر پٹیل نے کہا کہ کراچی میں آگ لگنے کا سب سے بڑا سانحہ بلدیہ تھا جس میں 360قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، کیا یہ بھول گئے یا ذکر کرنا نہیں چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ٹمبر مارکیٹ آگ پر حکومت سندھ نے متاثرین کی مکمل معاونت کی، گل پلازہ کراچی ایک منزلہ عمارت تھی اس وقت میئر بھی ہمارا نہیں تھا اور نہ ہی ادارے کی سربراہی ہمارے پاس تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا، چلنے کا راستہ نہیں چھوڑا اور منازل بھی بڑھا دی تھیں، یہ پلازہ اس دور کی نشانی ہے جو آج آئینہ دکھا رہا ہے کہ میرے ساتھ کیا کیا، ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کی روحیں بدعائیں دیتی رہیں گی، چائنہ کٹنگ کہا ں سے آئی، پارک اور گراؤنڈ ختم کس نے کیے، پلاٹنگ کس نے ناجائز طور پر کی۔

جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا یہی رکن حصے دار تھا، رکن ایم کیو ایم

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی وسیم حسین نے عبدالقادر پٹیل کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ آج الطاف حسین پر باتیں کرنے والے یہی رکن الطاف حسین کو جا کر حلیم کھلاتے تھے، یہی رکن الطاف حسین کو سندھی اجرک اور ٹوپی پہناتے تھے، ہمیں مناظرے کا چیلنج دینے والے اندرون سندھ کی سیٹوں کی فکر کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب الطاف حسین کا گارڈ گوگا گل پلازہ بنوایا تھا تو یہی رکن حصے دار تھا، گوگا کے ساتھ حنیف سنارا سمیت دیگر کا نام بھی لے لیتے۔

ایم کیو ایم کے رکن وسیم حسین نے عبدالقادر پٹیل کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کی تعمیر کے وقت متعلقہ ادارے اور سیاسی شخصیات سب کچھ جانتی تھیں، آج الزامات لگانے کے بجائے اصل ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔

قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے صوبائی حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ صرف وزیر اعلیٰ کو فون کرنا کافی نہیں، وزیر اعظم کو براہِ راست کراچی کے نمائندوں سے بات کرنی چاہیے۔

خالد مقبول صدیقی کے مطابق یہ واقعہ 17 سالہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے اور حادثے میں 100 سے زائد افراد کی شہادت کا خدشہ ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل مقامی حکومتوں کا نظام ان کا کہنا تھا کہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں انہوں نے کہا کہ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ کراچی سانحہ گل پلازہ جماعت اسلامی خواجہ آصف نے فائر بریگیڈ ایم کیو ایم الطاف حسین کراچی میں کراچی کو نے کراچی کراچی کے یہی رکن رہے ہیں کے ساتھ کے رکن کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری