آڈیو لیک کیس: علی امین گنڈا پور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد: آڈیو لیک کیس میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں، سیشن کورٹ اسلام آباد میں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔
عدالت میں سماعت کے دوران علی امین گنڈا پور کی عدم موجودگی کے باعث فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر کر دی گئی۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 21 فروری 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔
عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم متعدد بار طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس کے باعث قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔ عدالت نے اس رویے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور کے خلاف تھانہ گولڑہ اسلام آباد میں آڈیو لیک سے متعلق مقدمہ درج ہے۔ اس مقدمے میں ان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں، اگر ملزم آئندہ سماعت پر بھی پیش نہ ہوئے تو مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل علی امین گنڈا پور
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔