کیف اندھیرے اور سردی میں ڈوب گیا، روسی حملے کے بعد نصف شہر بجلی سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
روس کے رات گئے شدید حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف کا تقریباً نصف حصہ بجلی، پانی اور حرارت سے محروم ہو گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید سردی میں ہزاروں رہائشی عمارتیں اور پارلیمنٹ سمیت اہم سرکاری عمارتیں متاثر ہوئیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق روس نے سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کیف کے قریب ایک 50 سالہ شخص ہلاک ہو گیا۔ شہر کے میئر ویتالی کلیچکو نے بتایا کہ رواں ماہ روس کے شدید ترین حملوں کے باعث پانچ لاکھ سے زائد افراد دارالحکومت چھوڑ چکے ہیں۔
حملے کے دوران شہر بھر میں سائرن بجتے رہے اور یوکرینی فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی۔ شہریوں کی مدد کے لیے کیف انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں خیمے نصب کیے ہیں جہاں لوگ خود کو گرم رکھ سکتے ہیں، موبائل فون چارج کر سکتے ہیں، گرم مشروبات اور نفسیاتی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیںروس یوکرین جنگ کے خاتمے کی امید؟ کیف میں عالمی طاقتوں کا بڑا اجلاس
پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کی ویڈیو جاری
یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس خواتین، بچوں اور بزرگوں کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق کم از کم سات علاقوں میں توانائی کا انفراسٹرکچر نشانہ بنایا گیا، اور اتحادی ممالک سے فضائی دفاع مضبوط کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس موقع پر تشویش ظاہر کی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق بیانات عالمی توجہ کو یوکرین جنگ سے ہٹا سکتے ہیں۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین ایک مکمل جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور عالمی توجہ میں کمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امریکا اور یورپ کے درمیان سفارتی ہم آہنگی پر زور دیا۔
زیلنسکی نے عندیہ دیا کہ وہ حالیہ حملے کے بعد حالات کے باعث ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت نہ بھی کریں، تاہم اگر امریکا کے ساتھ جنگ کے بعد کے معاشی اور سکیورٹی معاہدوں پر پیش رفت ہوئی تو شرکت کا امکان موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سکتے ہیں حملے کے کے بعد
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔