اسلام آباد(نیوز ڈیسک)2021ء سے 2024ء کے دوران سی ایس ایس امتحان کے ذریعے بھرتی ہونے والے افسران کی تعلیمی اسناد کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ افسران کے تعلیمی پس منظر اور انہیں الاٹ کیے گئے سروس گروپس کی پیشہ ورانہ ضروریات کے درمیان مستقل عدم مطابقت موجود ہے۔ بیوروکریٹس کے تعلیمی ریکارڈز سے مرتب کردہ یہ اعداد و شمار ان لینڈ ریونیو سروس (آئی آر ایس)، پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس (پی اے اے ایس) اور انفارمیشن گروپ میں شامل ہونے والے افسران پر مشتمل ہیں، جو پاکستان کے جنرلِسٹ ریکروٹمنٹ ماڈل میں موجود ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ان اعداد و شمار پر سول سروس اصلاحات کمیٹی میں تفصیلی بحث ہوئی اور جائزہ لیا گیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ تکنیکی نوعیت کے ان سروس گروپس میں تعینات افسران کی اکثریت کے پاس اپنے شعبے کی متعلقہ قابلیت موجود نہیں۔ ٹیکس وصولی، نفاذ اور پیچیدہ مالی قوانین کی تشریح کا ذمہ دار گروپ ان لینڈ ریونیو سروس اس حوالے سے نمایاں تعلیمی خلا کا شکار نظر آیا۔ سی ایس ایس کے 2021ء سے 2024ء کے بیچز کے اعداد و شمار کے مطابق، آئی آر ایس میں بھرتی کیے گئے بیشتر افسران کا تعلق فنانس، اکاؤنٹنگ، ٹیکسیشن یا اکنامکس جیسے متعلقہ مضامین کی بجائے عمومی تعلیمی شعبوں سے ہے جن میں پولیٹیکل سائنس، انٹرنیشنل ریلیشنز، تاریخ، سوشیالوجی اور جنرل سائنسز شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، موجودہ دور میں آئی آر ایس افسران کو ڈیجیٹل آڈٹس، بین الاقوامی ٹیکسیشن، ٹرانسفر پرائسنگ اور فرانزک ڈاکیومنٹیشن جیسے پیچیدہ معاملات سے نمٹنا پڑتا ہے، جن کیلئے عموماً باضابطہ تعلیمی تربیت درکار ہوتی ہے۔ کمیٹی کے ایک ذریعے نے کہا کہ مسئلہ افراد کی صلاحیت کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ ان کے بقول، جب افسران کو ایسا شعبہ اور اس کی ذمہ داریاں دیدی جائیں جس سے متعلقہ تعلیم کبھی اس نے حاصل ہی نہ کی ہو تو بہتر نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ آئینی لحاظ سے سرکاری اخراجات کے آڈٹ اور حکومتی کھاتوں کی دیکھ بھال کا ذمہ دار سمجھے جانے والے گروپ پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں بھی یہی رجحان نظر آیا۔ تعلیمی کوائف پر مشتمل جدول کے مطابق 2021ء سے 2024ء کے دوران اس سروس میں بھرتی کردہ افسران کی اکثریت کے پاس اکاؤنٹنگ، آڈٹ، کامرس یا فنانس جیسے مضامین میں ڈگریاں موجود نہیں، حالانکہ یہ مضامین اس سروس کے لحاظ سے بنیادی سمجھے جاتے ہیں۔ گورننس کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ایسی عدم مطابقت ادارہ جاتی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے، خصوصاً اس وقت جب سرکاری شعبہ جات کے آڈٹ کیلئے بین الاقوامی اکاؤنٹنگ معیارات، پرفارمنس آڈٹ اور ڈیجیٹل مالیاتی نظاموں سے واقفیت ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہی حال انفارمیشن گروپ کا بھی ہے۔ یہ گروپ سرکاری ابلاغ، میڈیا مینجمنٹ، عوامی بیانیے اور ڈیجیٹل آؤٹ ریچ کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ اعداد و شمار مطابق، ان برسوں کے دوران انفارمیشن گروپ میں شامل کردہ افسران میں سے بمشکل ہی کسی کے پاس صحافت، ماس کمیونیکیشن، میڈیا اسٹڈیز یا متعلقہ شعبوں کی تعلیمی قابلیت موجود ہے، جبکہ بیشتر افسران کا تعلق غیر متعلقہ تعلیمی پس منظر سے ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے دور میں جب حکومتیں 24؍ گھنٹے کے نیوز سائیکل میں کام کر رہی ہیں اور اطلاعاتی جنگ (انفارمیشن وار فیئر) ایک اسٹریٹجک معاملہ بن چکی ہے، ابلاغ سے متعلق ذمہ داریوں کو محض جنرلِسٹ اسائنمنٹ کے طور پر دیکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق، ان خصوصی نوعیت کے گروپس میں تعینات افسران کے پاس اپنی متعلقہ پیشہ ورانہ ضروریات کے بجائے فارمیسی، تاریخ، انگریزی، اینتھرو پالاجی، مائیکرو بایولوجی، بایو ٹیکنالوجی، پیٹرولیم اینڈ گیس، زراعت، پلانٹ بایو، حیوانیات، انجینئرنگ، ایم بی بی ایس، کیمسٹری، آٹوموٹیو اور دیگر غیر متعلقہ مضامین میں گریجویشن یا ماسٹرز کی ڈگریاں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار میں نظر آنے والا یہ مسئلہ شخصی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔ سی ایس ایس امتحان بدستور ایک یکساں اور مشترکہ مسابقتی گیٹ وے کے طور پر کام کر رہا ہے، جہاں سروس کی الاٹمنٹ متعلقہ مضمون یا تعلیمی مطابقت کو مدنظر رکھ کر کرنے کی بجائے زیادہ تر میرٹ لسٹ اور امیدوار کی ترجیحات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگرچہ تقرری کے بعد دی جانے والی تربیت کے ذریعے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق قلیل مدتی تربیت برسوں پر محیط باقاعدہ تعلیمی بنیاد کا متبادل نہیں ہو سکتی، خصوصاً ان شعبوں میں جو انتہائی تکنیکی نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ نتائج سامنے آنے کے بعد سول سروس اصلاحات سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، خصوصاً ان تجاویز پر جن میں سروس کے مطابق تعلیمی اہلیت کی شرط، تکنیکی گروپس کیلئے خصوصی ریکروٹمنٹ اسٹریمز اور تعلیم و عملی ذمہ داریوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی سفارش کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق کے پاس

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع