مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل نے اقوام متحدہ کی عمارت مسمار کردی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے انروا (UNRWA) کے ہیڈکوارٹر کو منہدم کر دیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی بلڈوزرز منگل کی صبح کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے، سکیورٹی اہلکاروں کو باہر نکالا گیا اور عمارتوں کو مسمار کرنا شروع کر دیا گیا۔
انروا کے ترجمان جوناتھن فاؤلر نے اس کارروائی کو ادارے پر غیر معمولی حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے قوانین اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اگر آج انروا کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل کسی بھی بین الاقوامی ادارے یا سفارتی مشن کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔
ادھر انروا کے مغربی کنارے میں ڈائریکٹر رولینڈ فریڈرک نے کہا کہ یہ اقدام سیاسی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد زمین پر قبضہ کر کے وہاں یہودی آبادیاں تعمیر کرنا ہے، جس کا اعتراف اسرائیلی حکام ماضی میں کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیںجنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام: اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلا کا حکم
یو اے ای کے بعد بحرین نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کر لی
اے ایف پی کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ منہدم شدہ کمپاؤنڈ پر اسرائیلی پرچم لہرا رہا ہے، جبکہ اسرائیل کے انتہاپسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے بھی موقع کا دورہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جگہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے زیر استعمال تھی، اس لیے کارروائی ضروری تھی۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ کمپاؤنڈ اسرائیل کی ملکیت ہے اور انروا کو وہاں کوئی استثنا حاصل نہیں۔ تاہم انروا حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی ملکیت ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ ہے، چاہے فی الحال استعمال میں نہ ہو۔
دوسری جانب، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں کے ایک فٹبال کلب کو بھی مسمار کیے جانے کا خطرہ لاحق ہے، حالانکہ عالمی سطح پر اسے بچانے کی مہم جاری ہے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ کلب مہاجر کیمپوں میں رہنے والے بچوں کے لیے واحد کھیل کا موقع ہے، جبکہ اسرائیل نے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔