پولیس حراست میں لڑکی کیساتھ اجتماعی زیادتی؛ کیس ایف آئی اے کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پولیس حراست میں لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ ثابت ہونے پر کیس ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔
جیکب آباد میں پولیس حراست کے دوران لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں میڈیا رپورٹس کے مطابق 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف تفتیش کے لیے مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے گرفتار پولیس اہل کاروں کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا جب کہ کیس کے سلسلے میں مزید تفتیش کا عمل بھی جاری ہے۔
ایس ایس پی جیکب آباد کے مطابق اس سنگین معاملے میں 2 تھانے داروں مقصود سنجرانی اور نواز بروہی کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا گیا ہے۔ قبل ازیں تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او سمیت مجموعی طور پر 7 اہلکاروں پر لڑکی سے زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جس پر وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا فوری نوٹس لیا۔
قبل ازیں جاری ہونے والی انکوائری رپورٹ میں پولیس حراست کے دوران لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تصدیق سامنے آئی تھی، جس کے بعد تمام ملوث اہلکاروں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا۔ اسی دوران ایس ایس پی محمد کلیم ملک نے بھی اجتماعی زیادتی کے واقعے کی تصدیق کی۔
واضح رہے کہ متاثرہ لڑکی آسیہ کی دادی نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ایس ایچ او مقصود سنجرانی، ہیڈ محرر یاسین نوناری سمیت 6 اہلکاروں نے 7 دن تک ان کی پوتی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اجتماعی زیادتی پولیس حراست
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔