Jasarat News:
2026-06-02@22:17:55 GMT

قنبرعلی خان،ڈاکوئوں کیخلاف ٹارگیٹڈ آپریشن شروع

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قنبرعلی خان (نمائندہ جسارت) ایس ایس پی قنبر شہدادکوٹ حسن سردار احمد خان نیازی کے احکامات پر قنبر شہدادکوٹ پولیس کا ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کے منظم گروہوں کے خلاف ضلع قنبر شہدادکوٹ اور جیکب آباد کی حدود میں ٹارگیٹڈ آپریشن۔ ایس ایس پی قنبر شہدادکوٹ کی سربراہی میں ڈی ایس پی میروخان، سی آئی اے پاسبان سمیت ضلع کی بھاری نفری نے پولیس موبائلز ، اے پی سی چین اور جدید آلات سمیت آپریشن میں حصہ لیا۔ آپریشن میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا۔ یہ آپریشن ضلع قنبر شہدادکوٹ اور ضلع جیکب آباد کی حدود میں ڈاھانی اور ایری گینگز کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ جن میں بدنام زمانہ ڈاکوّ خانو ڈاھانی، شیرو ڈاھانی، امانو ڈاھانی، اکرو ڈاھانی ، رزاق ڈاھانی ، یاسین ڈاھانی اور ایری گینگ شامل ہے۔ ضلع پولیس نے ڈاکوئوں کے ٹھکانوں کو جلا کر مسمار کرکے تباہ کر دیا ہے۔ ضلع میں امن وامان کی فضا کو مزید مستحکم بنانے اور جرائم پیشہ افراد کا گھیرا تنگ کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے جامع منصوبہ بندی کے تحت کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ٹارگیٹڈ آپریشن کے دوران مختلف علاقوں سے چند مشکوک افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ جنہیں ویریفائی کیا جا رہا ہے۔ آپریشن کا مرکز ضلع قنبر شہدادکوٹ کے علاقے سنجر بھٹی، سجاول جونیجو اور جیکب آباد کے علاقے پنہوں بھٹی، دوداپور اور گڑھی خیرو والے علاقے ہیں۔ ایس ایس پی قنبر شہدادکوٹ حسن سردار احمد خان نے کہا ہے کہ جب تک گاؤں گل محمد مستوئی کی وانڈ واقعے کے کیس میں ملوث ملزمان اپنے آپ کو قانون کے حوالے نہیں کرتے یا ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آتی تب تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قنبر شہدادکوٹ ایس پی

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی