سانحہ گل پلازہ؛ لاپتا افراد کی تلاش تک ملبہ نہیں اٹھایا جا سکتا، ڈپٹی کمشنر کراچی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ جب تک ایک بھی لاپتا شخص ہے اس وقت تک عمارت کو نہیں گراسکتے اور جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرائیں گے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ساوتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گل پلازہ میں پانچویں روز بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ہماری کوشش ہے جلد از جلد لاشوں کی شناخت بھی ممکن ہو۔
انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد 28 ہو چکی ہے جب کہ ملبے سے نکلنے والے 17 افراد کی شناخت ہونا باقی ہے، 11 افراد کی شناخت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور 85 افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
منکی پاکس کا خطرہ سنگین ؛ مزید مریض ہسپتال پہنچ گئے
ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھاکہ 39 لاپتا افراد کی لوکیشن گل پلازہ کی بلڈنگ کی آئی ہے مگر بلڈنگ کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں ہم نہیں پہنچ سکےہیں، گل پلازہ کے جو حصے گرے ہیں وہاں سے ملبہ ہٹایا جارہا ہے، مشین سے اور مینولی بھی کام کیا جارہا ہے، عمارت کے گرے ہوئےحصے کو اٹھانے میں مشکلات ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت کے اندر ابھی بھی دھواں اور گرمائش ہے لہٰذا اس وقت عمارت میں کولنگ بھی کی جارہی ہے جہاں تک پہنچ سکتے ہیں وہاں سرچ کیا گیا ہے، تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھتےہوئےریسکیواینڈ سرچ آپریشن جاری ہے۔
الیکشن کمیشن میں گوشوارے جمع ؛ 113ارکان کی رکنیت بحال
ڈی سی ساوتھ نے کہا کہ 85 افراد لاپتا افراد کی فہرست میں ہیں جن میں کچھ نام ڈبل ہوگئے ہیں ان کی جانچ کی جارہی ہے، کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جارہی ہے کیونکہ یہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے، جب تک ایک بھی لاپتاشخص ہے اس وقت تک عمارت کو نہیں گراسکتے اور جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرائیں گے۔
جاوید کھوسو کا کہنا تھاکہ برابر میں موجود رمپا پلازہ کو عارضی طور پر بند کیا ہے، ایس بی سی اے سے رمپا پلازہ کے نقشے اور دیگر چیزیں مانگی ہیں۔
کے پی کےمیں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں،بیرسٹر گوہر خان
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔