مظفر گڑھ: ایک ماہ میں ایک ہی بستی کے 9 کم عمر بچے بیماری سے انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
مظفر گڑھ میں ایک ماہ میں ایک ہی بستی کے 9 کم عمر بچے بیماری سے انتقال کر گئے۔ تیز بخار اور منہ پر سوجن سے بچے بیمار ہوئے۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو پہلے تیز بخار ہوتا ہے، پھر ان کے منہ پر سوجن ہو جاتی ہے اور دو سے تین روز میں بچے انتقال کر جاتے ہیں، جو بچے انتقال کر گئے ان کی عمریں ڈیڑھ سال سے 6 سال کے درمیان تھیں۔
جیو نیوز کی نشاندہی پر ڈاکٹرز اور محکمۂ صحت کی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پہنچیں اور بیمار ہونے والے 11 مزید کم عمر بچوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دیگر 37 کم عمر بچوں کی ویکسینیشن بھی کی گئی۔
اس حوالے سے محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ مرنے والے اور متاثرہ بچوں میں وائرل نمونیہ کی تشخیص ہوئی ہے، مرنے والے بچوں کے والدین بچوں کے بیمار ہونے پر انہیں اسپتالوں میں نہیں لے گئے جس سے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوئی۔
محکمۂ صحت نے کہا کہ علاقے میں مزید بچوں کی اسکریننگ کا عمل بھی جاری ہے اور اسپتال میں داخل بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انتقال کر
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔