پی ایس ایل 11 : آکشن سے قبل لوکل کھلاڑیوں کی نئی کیٹیگریز منظر عام پر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کی پلیئرز آکشن سے قبل مقامی کھلاڑیوں کی ممکنہ نئی کیٹیگریز کی فہرست سامنے آ گئی ہے، جس میں کئی نمایاں اور سینئر کرکٹرز کی کیٹیگریز میں تبدیلی متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فہرست کو حتمی شکل دینے سے قبل مختلف فرنچائزز اور بورڈ کے درمیان مشاورت جاری ہے، تاہم سامنے آنے والی تفصیلات نے شائقین کرکٹ میں خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے شاداب خان، عماد وسیم اور نسیم شاہ بدستور پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح صاحبزادہ فرحان کو گولڈ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے جب کہ سلمان علی آغا اور محمد نواز کی کارکردگی کے پیش نظر انہیں ڈائمنڈ سے ترقی دے کر پلاٹینم کیٹیگری میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
کراچی کنگز کے حسن علی کو ڈائمنڈ سے پلاٹینم میں شامل کیا گیا ہے جب کہ عباس آفریدی پلاٹینم سے ڈائمنڈ میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح خوشدل شاہ اور عامر جمال کو ڈائمنڈ سے گولڈ میں شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں جب کہ شان مسعود اپنی ڈائمنڈ کیٹیگری برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان اور حارث رؤف بدستور پلاٹینم کیٹیگری میں موجود ہیں، جو ٹیم کے مرکزی ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سلمان مرزا کو گولڈ سے ڈائمنڈ اور محمد نعیم کو ایمرجنگ سے سلور میں شامل کیا گیا ہے۔
پشاور زلمی کے بابر اعظم اور صائم ایوب بھی پلاٹینم میں برقرار ہیں، تاہم محمد حارث اور محمد علی کی کیٹیگری ڈائمنڈ سے گولڈ میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ ملتان سلطانز کے محمد رضوان پلاٹینم میں موجود رہیں گے جب کہ اسامہ میر اور افتخار احمد کو پلاٹینم سے ڈائمنڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فہیم اشرف اور محمد عامر بھی پلاٹینم میں برقرار ہیں جب کہ ابرار احمد کو ڈائمنڈ سے پلاٹینم میں ترقی دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیٹیگری میں پلاٹینم میں ڈائمنڈ سے اور محمد گیا ہے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔