دنیا کی پہلی ٹول استعمال کرنے والی گائے، ویورنیکا نے سب کو حیران کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
آسٹریا کے محققین نے پہلی بار ایک گائے کو اوزار استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ سوئس براؤن گائے ویورنیکا لکڑی اور برش سے خود کو خارش کرنے کے لیے اوزار استعمال کرتی ہے، اور اس حیرت انگیز رویے نے فارمنگ جانوروں کی ذہانت پر نئے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جہلم: گائے کو کلہاڑی سے شدید زخمی کرنے پر 2 افراد گرفتار
یونیورسٹی آف ویٹرنری میڈیسن کے محققین نے ویورنیکا نامی ایک سوئس براؤن گائے کے غیر معمولی رویے کی تفصیل شائع کی ہے، جو خود کو خارش کرنے کے لیے چھڑی اور برش استعمال کرتی ہے۔ ویورنیکا کی یہ عادت تقریباً 10 سال پہلے شروع ہوئی اور وقت کے ساتھ اس نے مختلف حصوں کے استعمال میں مہارت حاصل کی۔
اس کے مالک وِٹگار ویگلے کے مطابق، ویورنیکا برش کے نرم حصے سے حساس جگہیں اور سخت حصے سے اپنی موٹی جلد پر خارش کرتی ہے، جو اس کے رویے کو باقاعدہ اور سوچ سمجھ کر کیا جانے والا کام ثابت کرتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ یہ دریافت جانوروں کی ذہانت پر ہمارے موجودہ نظریات کو بدل سکتی ہے۔ یونیورسٹی کی ماہر حیاتیات ایلس آورسپرگ نے کہا کہ یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ فارمنگ جانوروں کی ذہانت کو کم سمجھنا محض مشاہدے کی کمی کی وجہ سے ہو سکتا ہے، نہ کہ حقیقی حدود کی وجہ سے۔
پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق انتونیو اوسو نا-ماسکارو نے کہا کہ ویورنیکا صرف خارش کے لیے اوزار استعمال نہیں کرتی، بلکہ مختلف حصوں کو مختلف طریقوں سے استعمال کرتی ہے۔ یہ ایک لچکدار اور ذہین رویہ ہے۔
ویورنیکا کا یہ رویہ 1982 میں گری لارسن کے مشہور کارٹون ’ Cow Tools ‘ کی یاد دلاتا ہے، جس میں ایک گائے عجیب و غریب اوزاروں کے ساتھ دکھائی گئی تھی۔ تاہم محققین نے وضاحت کی کہ ویورنیکا حقیقی معنوں میں اوزار منتخب اور استعمال کرتی ہے، جو انسانی توقعات سے کہیں زیادہ ذہانت کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Cow Tools آسٹریا دلچسپ گائے گائے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریا دلچسپ گائے گائے استعمال کرتی ہے کے لیے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔