قتل کی دھمکیوں پر واشنگٹن اور تہران آمنے سامنے، جنگ کے بادل منڈلانے لگے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر تہران کبھی بھی امریکی صدر کو قتل کرنے میں کامیاب ہوا تو ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔
ایک بار پھر ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ بیان نیوز نیشن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ سے ایران کی جانب سے ان کی جان کو لاحق مبینہ خطرات کے حوالے سے سوال پر 79 سالہ امریکی صدر نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے ’انتہائی واضح ہدایات‘ دی گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، اگر کچھ بھی ہوا تو وہ انہیں زمین کے نقشے سے مٹا دیں گے۔
Trump vows to 'wipe Iran off the face of the Earth' if regime makes assassination attempt
"Anything ever happens, the whole country is going to get blown up,” Trump said and added, "I would absolutely hit them so hard.
— qwerty (@qwerty14117587) January 21, 2026
اس بیان کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی ملک کے اعلیٰ رہنما کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔
اس سے قبل منگل ہی کے روز ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو لاحق ممکنہ خطرات کے تناظر میں ایرانی جنرل ابو الفضل شکارچی نے امریکی صدر کو سخت پیغام دیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا، آیت اللہ خامنائی
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنرل شکارچی نے کہا کہ ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ایران کے رہبر کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو تہران پیچھے نہیں ہٹے گا۔
’اگر ہمارے رہنما کی طرف جارحیت کا ہاتھ بڑھایا گیا تو ہم نہ صرف وہ ہاتھ کاٹ دیں گے بلکہ ان کی دنیا کو آگ میں جھونک دیں گے اور خطے میں انہیں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ملے گی۔‘
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو اس نوعیت کی دھمکی دی ہو۔ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس واپسی کے فوراً بعد بھی انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر ایران نے ایسا کوئی اقدام کیا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا سے جوہری مذاکرات کے لیے تیار، بڑی شرط رکھ دی
دوسری جانب ایران اس وقت اندرونی طور پر شدید بحران کا شکار ہے، 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے جاری سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد دیکھنے میں آیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی نے 4 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور بعض اندازوں کے مطابق یہ 20 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ’امریکا ایران کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام‘
یہ مظاہرے گزشتہ دسمبر میں اس وقت شروع ہوئے جب ایران کی کرنسی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ملک کے معاشی حالات، مہنگائی اور دہائیوں سے جاری جمہوری اصلاحات کی مزاحمت نے عوامی غصے کو مزید بھڑکا دیا ہے۔
جلا وطن نوبیل امن انعام یافتہ شیرین عبادی سمیت ایرانی تارکینِ وطن اور عالمی برادری میں شامل کئی شخصیات نے تہران کی حکومت کے خلاف امریکی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
شیرین عبادی نے ایران کے سپریم لیڈر اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز کے خلاف ’انتہائی ہدفی پر مبنی اقدامات‘ پر زور دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسانی حقوق انعام یافتہ تارکین وطن جلا وطن شیرین عبادی صدر ٹرمپ نوبیل امن انعام
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انعام یافتہ تارکین وطن جلا وطن نوبیل امن انعام امریکی صدر کے مطابق کہ اگر
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔