امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر تہران کبھی بھی امریکی صدر کو قتل کرنے میں کامیاب ہوا تو ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔

ایک بار پھر ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ بیان نیوز نیشن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ سے ایران کی جانب سے ان کی جان کو لاحق مبینہ خطرات کے حوالے سے سوال پر 79 سالہ امریکی صدر نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے ’انتہائی واضح ہدایات‘ دی گئی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق، اگر کچھ بھی ہوا تو وہ انہیں زمین کے نقشے سے مٹا دیں گے۔

Trump vows to 'wipe Iran off the face of the Earth' if regime makes assassination attempt

"Anything ever happens, the whole country is going to get blown up,” Trump said and added, "I would absolutely hit them so hard.

But I have very firm instructions.”https://t.co/ACuvNrRAUT pic.twitter.com/kNwYGJbIEw

— qwerty (@qwerty14117587) January 21, 2026

اس بیان کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان لفظی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی ملک کے اعلیٰ رہنما کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔

اس سے قبل منگل ہی کے روز ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو لاحق ممکنہ خطرات کے تناظر میں ایرانی جنرل ابو الفضل شکارچی نے امریکی صدر کو سخت پیغام دیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا،  آیت اللہ خامنائی

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنرل شکارچی نے کہا کہ ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ایران کے رہبر کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو تہران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

’اگر ہمارے رہنما کی طرف جارحیت کا ہاتھ بڑھایا گیا تو ہم نہ صرف وہ ہاتھ کاٹ دیں گے بلکہ ان کی دنیا کو آگ میں جھونک دیں گے اور خطے میں انہیں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ملے گی۔‘

یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو اس نوعیت کی دھمکی دی ہو۔ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس واپسی کے فوراً بعد بھی انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر ایران نے ایسا کوئی اقدام کیا تو وہ مکمل طور پر نیست و نابود ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا سے جوہری مذاکرات کے لیے تیار، بڑی شرط رکھ دی

دوسری جانب ایران اس وقت اندرونی طور پر شدید بحران کا شکار ہے، 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے جاری سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد دیکھنے میں آیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی نے 4 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور بعض اندازوں کے مطابق یہ 20 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ’امریکا ایران کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام‘

یہ مظاہرے گزشتہ دسمبر میں اس وقت شروع ہوئے جب ایران کی کرنسی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ملک کے معاشی حالات، مہنگائی اور دہائیوں سے جاری جمہوری اصلاحات کی مزاحمت نے عوامی غصے کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

جلا وطن نوبیل امن انعام یافتہ شیرین عبادی سمیت ایرانی تارکینِ وطن اور عالمی برادری میں شامل کئی شخصیات نے تہران کی حکومت کے خلاف امریکی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

شیرین عبادی نے ایران کے سپریم لیڈر اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز کے خلاف ’انتہائی ہدفی پر مبنی اقدامات‘ پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسانی حقوق انعام یافتہ تارکین وطن جلا وطن شیرین عبادی صدر ٹرمپ نوبیل امن انعام

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انعام یافتہ تارکین وطن جلا وطن نوبیل امن انعام امریکی صدر کے مطابق کہ اگر

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی