لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تمام منظور شدہ 60 اسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ججز کی خالی 18 اسامیوں پر تقرری کے لیے پراسیس شروع کر دیا گیا، اسامیوں پر ججز کا تقرر ہونے پر منظور شدہ 60ججز کی تعداد مکمل ہو جائے گی۔

ہائیکورٹ میں ججز کی منظور شدہ اسامیوں کی تعداد 60 ہے جو کبھی مکمل نہیں ہو سکی تھی، تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی خالی 60 اسامیوں کو ہر صورت مکمل کی جائے گی۔

سخت پابندیاں،  امریکا میں بھارتی طلبہ کے داخلوں میں 75 فیصد تک کی کمی آگئی

ججز کی تقرریوں کا عمل مکمل ہونے پر زیر التوا کیسز کو بروقت نمٹایا جا سکتا ہے۔

اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سمیت 42 ججز فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور مجموعی طور پر 18 ججز کی اسامیاں خالی ہیں۔

ججز کی خالی اسامیوں کے پُر نہ ہونے سے کیسز میں اضافے کے باعث موجود ججز پر بھی کام کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ہائیکورٹ میں ججز کی لاہور ہائیکورٹ میں

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش