کالے بلدیاتی قانون کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کی منڈی نہیں لگنے دینگے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-11-5
لاہور (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی لاہور کے عہدیداران کا ایک اہم اجلاس سید مودودیؒ اسلامک سینٹر میں منعقد ہوا، جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کی۔ اجلاس میں 4 روزہ عوامی ریفرنڈم کی کامیابی پر ذمہ داران کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جبکہ لاہور بھر میں 1400 پولنگ کیمپس کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لاہور اظہر بلال، نائب امرالاہور انجینئر اخلاق احمد، ملک شاہد اسلم، خالد احمد بٹ، وقاص احمد بٹ اور چودھری محمد شوکت سمیت ڈپٹی سیکرٹریز، اضلاع کے امرا و سیکرٹریز، مختلف شعبہ جات کے صدور، سیکرٹریز اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت کوکالے بلدیاتی قانون کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کی منڈی قائم نہیں لگانے دیں گے۔ بلدیاتی ایکٹ عوام دشمن ہے اور اس کے خلاف جدوجہد کو مزید منظم اور تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام دشمن بلدیاتی شقوں کے مکمل خاتمے تک جماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کو بلدیاتی انتخابات سے بھاگنے نہیں دیا جائے گا اور میٹرو پولیٹن سٹی کو ٹاؤنز میں تقسیم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔امیر جماعت اسلامی لاہور نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، گیس بندش اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوام پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے ٹریفک کے مسائل اور مہنگے چالانوں کو بھی عوام دشمن اقدامات قرار دیا۔انہوں نے ذمہ داران کو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی کال پر بڑے احتجاج کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پنجاب اسمبلی یا وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی لاہور امیر جماعت اسلامی
پڑھیں:
کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔
مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔