سوئٹزرلینڈ روانگی کے فوراً بعد ایئر فورس ون کے طیارے میں فنی خرابی، ٹرمپ محفوظ رہے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طیارہ منگل کی رات سوئٹزرلینڈ روانگی کے فوراً بعد ایک معمولی برقی خرابی کے باعث واپس ایئر بیس پر اتار لیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیصلہ احتیاطی تدابیر کے تحت کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ ایئر فورس ون مختصر پرواز کے بعد جوائنٹ بیس اینڈریوز واپس پہنچا، جہاں یہ تقریباً 0400 جی ایم ٹی پر لینڈ ہوا۔
صدر کے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں کے مطابق ٹیک آف کے کچھ دیر بعد طیارے کے کیبن کی لائٹس چند لمحوں کے لیے بند ہو گئی تھیں۔
مزید پڑھیںٹرمپ نے چین کو بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت دیدی
متحدہ عرب امارات ٹرمپ کے ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے والا پہلا مسلم ملک بن گیا
ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے اور پرچم لہرانے کی اے آئی تصویر جاری کردی
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنا دورہ منسوخ کرنے کے بجائے طیارہ تبدیل کیا اور بدھ کی صبح ڈیووس فورم میں شرکت کے لیے دوبارہ روانہ ہو گئے۔ نیا طیارہ ابتدائی پرواز کے تقریباً ڈھائی گھنٹے بعد اینڈریوز بیس سے روانہ ہوا۔
ایئر فورس ون کو دنیا کے سب سے پہچانے جانے والے طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم صدر ٹرمپ ماضی میں موجودہ طیاروں پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔ یہ بوئنگ 747-200 بی سیریز کے طیارے 1990 میں سروس میں آئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق نئے ایئر فورس ون طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کے باعث ٹرمپ انتظامیہ متبادل آپشنز پر بھی غور کرتی رہی ہے۔ اس تناظر میں ایک غیر ملکی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے طیارے پر آئینی، اخلاقی اور سکیورٹی خدشات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایئر فورس ون
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔