عظمیٰ بخاری کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر طنز
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
لاہور:
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر طنز پر مبنی ٹوئٹ کردیا۔
صوبائی وزیر نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی پوسٹ میں کے پی کے میں گٹر کا ڈھکن لگنے سے پہلے اور بعد کی تصویریں شیئر کی ہیں، جس میں کے پی حکومت کے ایک پوسٹر میں سہیل آفریدی کی بھی دو مختلف تصاویر بنی ہوئی ہیں۔
ٹوئٹ میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ارے واہ اتنی ترقی ہورہی ہے تبدیلی کے صوبے میں؟ ہمیں پتا ہی نہیں چلا۔ ماشااللہ۔ خوامخواہ تنقید ہوتی ہے کام نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ دیکھیں گٹر لگنے سے پہلے اور بعد کی تصویریں جاری ہو گئی ہیں۔
ارے واہ اتنی ترقی ہورہی ہے تبدیلی کے صوبے میں،ہمیں پتا ہی نہیں چلا ماشااللہ
خوامخواہ تنقید ہوتی ہے کام نہیں کرتے،دیکھیں گٹر لگنے سے پہلے اور بعد کی تصویریں جاری ہو گئی ہیں pic.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔