عمران خان کی 900 دن کی قید بھی پارٹی کو متحد نہ کرسکی، علی محمد خان اندرونی اختلاف پر بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما علی محمد خان نے پارٹی کے اندر جاری اختلافات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ عمران خان گزشتہ 900 دنوں سے جیل میں ہیں، اس کے باوجود پارٹی قیادت اور کارکنان تاحال مکمل اتحاد قائم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے بڑا امتحان اور کیا ہوسکتا ہے جو پارٹی کو یکجا کرسکے، مگر بدقسمتی سے اندرونی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ہے یا نہیں؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا
وی نیوز سے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کو درپیش چیلنجز غیر معمولی نوعیت کے ہیں، جہاں ایک طرف پارٹی کے بانی جیل میں قید ہیں، وہیں دوسری جانب کارکنان اور رہنما ریاستی دباؤ، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں باہمی الزامات اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات پارٹی کے مخالفین کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔
رہنما نے پارٹی قیادت اور تمام دھڑوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی اختلافات ترک کریں اور اس اتحاد کی حمایت کریں جو عمران خان کی قیادت میں کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپس میں لڑنے کے بجائے اتحاد پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ موجودہ نظام، حکومت اور ریاستی ادارے پارٹی کے خلاف صف آرا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کارکنان پر لاٹھی چارج ہو رہا ہے، مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور بعض افراد لاپتا بھی ہو رہے ہیں، ایسے میں اندرونی اختلافات مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ روش برقرار رہی تو آخرکار ایک دوسرے سے بدظن ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
یہ بھی پڑھیں:محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟
8 فروری کو متوقع احتجاج کے حوالے سے سوال پر رہنما نے کہا کہ یہ احتجاج عمران خان کی رہائی کے لیے ایک کوشش ہے اور اگر فوری نتائج سامنے نہیں آتے تو احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی پارلیمنٹ، عدلیہ اور سڑکوں پر آواز بلند کرتی رہے گی جب تک عمران خان اور دیگر زیرِ حراست کارکنان کی رہائی عمل میں نہیں آ جاتی۔
مذاکرات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ کبھی مذاکرات کے خلاف نہیں رہے، تاہم بات چیت بامعنی اور نتیجہ خیز ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو اسے مثبت پیشرفت کہا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے عمران خان تک براہِ راست رسائی اور ان سے مشاورت ناگزیر ہے تاکہ کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی تحریک انصاف علی محمد خان عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بانی پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی تحریک انصاف علی محمد خان ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ا ئی پارٹی کے رہے ہیں
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔