آئند بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں کو ریلیف دینے کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) رواں مالی سال کے اختتام 30 جون تک کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا، ٹیکس شارٹ فال ٹیکس اقدامات کی بجائے ٹیکس آمدن بڑھانے سے پورا کرنے کی کوششیں کی جائے گی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی حکمت عملی سے متعلق ہدایات جاری کر دیں، سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو مزید ٹیکس نہ لگانے پر منایا جائے گا، 30 جون تک ٹیکس کا شارٹ فال پورا کرنے کیلئے متبادل طریقے سے ٹیکس آمدن بڑھائی جائے گی۔
سمگلنگ کے خاتمے کیلئے کوششیں مزید تیز کی جائیں گی، ٹیکس چوروں اور نان فائلرز کے خلاف ایکشن جاری رہے گا، سوشل میڈیا، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر نمود ونمائش کرنے والے نان فائلرز کے خلاف خفیہ کارروائیاں جاری ہیں، ایف بی آر کا خصوصی ونگ سوشل میڈیا، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر نمود ونمائش کرنے والے نان فائلرز کے ڈیٹا کا آڈٹ کر رہا ہے۔
سونا12ہزار700روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 5لاکھ سے تجاوز کر گئی
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف پر اقدامات شروع کئے جا رہے ہیں، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، وزیراعظم نے صنعتوں کیلئے بھی ٹیکس کا ریٹ کم کرنے کی تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، اس حوالے سے آئی ایم ایف کو بھی منایاجائے گا۔
آئندہ بجٹ میں نئی انڈسٹریل پالیسی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، سپر ٹیکس کے سٹرکچر میں ریفارمز کے تحت 4 برسوں میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس کی شرح کم ہو کر 5 فیصد مقرر کی جائے گی۔
لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تمام منظور شدہ 60 اسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ
پرائمری بیلنس سرپلس ہونے پر پانچویں سال سپر ٹیکس ختم کر دیا جائے گا، مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے کم سے کم آمدن پر سپر ٹیکس کا تھریش ہولڈ 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ کرنے کی تجویز ہے، آئندہ بجٹ سے 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کیلئے تھریش ہولڈ 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
اسلام آباد:رواں ہفتے ملک میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں0.91 فیصد اضافہ ہوگیا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار 9.66 فیصد رہی، حالیہ ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں، 8 اشیاء سستی اور 21 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے بارے میں ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے آلو 3.70اور انڈے 7.31فیصد مہنگے ہوگئے جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں 39.92 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں0.41 فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.45 فیصد، چائے کی پتی کی قیمتوں میں 0.59 فیصد، واشنگ سوپ کی قیمتوں میں 0.21فیصد، پٹرول کی قیمت میں5.23 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15.87فیصد اور ایل پی جی کی قیمتوں میں0.91 فیصد اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں چینی کی قیمتوں میں 0.09فیصد،کیلوں کی قیمتوں میں 1.72 فیصد جبکہ چکن کی قیمتوں میں 4.66فیصد،ایری سکس چاول کی قیمت میں0.52 فیصد، دال چنے کی قیمتوں میں 0.03فیصد،دال مسور کی قیمتوں میں0.40 فیصد، دال مونگ 1.08 اور دال ماش1.07 فیصد سستی ہوئی۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار087فیصداضافے کے ساتھ 10.23فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.89فیصداضافے کے ساتھ10.76فیصد رہی۔
اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.80 فیصداضافے کے ساتھ9.27فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.86فیصداضافے کے ساتھ9.23فیصد رہی جبکہ44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.98 فیصداضافے کے ساتھ 9.11فیصدرہی ہے۔